Married Life Problems: Hilarious Truths, Sweet Laughs

Married Life Problems are a universal constant, regardless of how modern or technologically advanced the world becomes. Whether it’s the rising cost of groceries, the unpredictable electricity bill, or your wife’s sudden mood swings — the struggle is real. However, when these struggles are narrated with humour, wit, and a hint of sarcasm, they become not only bearable but surprisingly enjoyable. No one masters this art better than Mustansar Hussain Tarar, the legendary Urdu columnist, novelist, and humorist whose pen transforms daily irritations into literary laughter.

The Art of Laughing at Married Life

Many writers have tackled Married Life Problems, but Tarar brings something rare to the table: relatability. In his humorous collection of columns titled “Guzara Nahin Hota”, he captures the everyday battles of a married man. These are not stories of grand drama or scandalous affairs. They are about the slow-burning, silently fuming troubles that come wrapped in utility bills, school fees, and yes, sarcastic remarks from your better half.

Tarar’s genius lies in transforming these mundane issues into hilarious situations. His writing style is conversational, often giving the reader the feeling that he is sitting right next to him, sharing chai and chuckles.

The Column That Started It All

In the Awaz-e-Urdu video narration of the column “Khushgawar! Shaadi Shuda Zindagi Aur Tareekhi Biwiyan”, Tarar begins with a seemingly harmless Eid card, adorned with camels, crescents, and poetic wisdom. But the real twist comes in the form of a message from the Saeed Ahmed Farani Esperanto Centre, which offers “10 principles for a happy married life.”

And just like that, Tarar enters a familiar battlefield — the living room — where he dares to read these tips to his wife. But of course, the wife is quick to assume that the tips are for husbands only and expects him to change first. What follows is a brilliant tug-of-war of words, showcasing sarcasm, innocence, helpless husbandhood, and razor-sharp feminine wit.

Historical Wives and Universal Truths

Tarar cleverly inserts historical references, mentioning wives who made the lives of great men a living nightmare, like the woman who emptied a water pitcher over Socrates’ head or the one who nagged Abraham Lincoln endlessly. These exaggerated yet hilarious examples reflect one of the most undeniable Married Life Problems: no one, not even the greats, could escape the wrath of a frustrated spouse.

Yet, in Tarar’s world, these aren’t cautionary tales. They are gentle reminders that if you can laugh at your pain, you’ve already won half the battle.

Why We Keep Coming Back to Tarar

Readers, especially men, find themselves in his words — sometimes as the victim, sometimes as the observer, but always as the entertained. His column doesn’t just make you laugh; it makes you think: “Yes, this is my story too.” That’s the power of great humour — it connects, reflects, and heals.

And when it comes to navigating Married Life Problems, sometimes what we need isn’t counselling, but a well-written joke — or a sharply observed Tarar column.

Final Thoughts: Humour is Survival

Let’s face it: Married Life Problems will never go away. But Mustansar Hussain Tarar shows us that we can deal with them better by turning arguments into anecdotes and stress into stories. His writing is not just comedy; it’s therapy wrapped in laughter.

So the next time your spouse blames you for everything from inflation to weather, remember Tarar’s golden rule: when in doubt, crack a joke — preferably one that only your readers, not your wife, will laugh at.

If you’re interested in reading this book, click the link below for a free download.

https://drive.google.com/file/d/1hKXT9dQGuOqfuLXbWlqqinlNB1D0C8RU/view?usp=sharing

If you’d like to listen to this book in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the audiobook.

You can also watch the same video on these social media platforms.

خوشگوار!شادی شدہ زندگی اورتاریخی بیویاں،

یقین جانیے! یہ دنیا کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو جائے، ایک شادی شدہ مرد کی زندگی کا بنیادی مسئلہ وہی “گزارا نہیں ہوتا” ہی رہتا ہے۔ یہ مسئلہ کبھی آٹے دال کے بھاؤ پر جا کر کھڑا ہو جاتا ہے، تو کبھی بیگم کی برہمی پر۔ کہیں بجلی کا بل تنگ کرتا ہے، کہیں بچوں کی ٹیوشن فیس۔ مگر کچھ مسائل ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف طنز و مزاح میں لپٹ کر ہی بیان کیے جا سکتے ہیں—اور اس ہنر میں جو نام سب سے آگے آتا ہے، وہ ہے مستنصر حسین تارڑ کا، جن کی تحریریں نہ صرف قہقہے بکھیرتی ہیں بلکہ آئینہ بھی دکھاتی ہیں۔

مستنصر حسین تارڑ اردو ادب کے وہ سپہ سالار ہیں جنہوں نے قاری کو کبھی کوہِ ہمالیہ کی بلندیوں پر پہنچایا، کبھی دلی، بخارا، بلغاریا کی گلیوں میں گھمایا، اور کبھی محض ایک ناشتہ خوان پر بٹھا کر پوری دنیا کا خاکہ کھینچ دیا۔ اُنہوں نے سفرناموں سے شہرت پائی، ناولوں سے مقام، اور کالموں سے دل۔ مگر ان کی اصل قوت اُن کے مخصوص طنزیہ لہجے میں چھپی ہے، جہاں وہ عام سے واقعات کو غیر معمولی بنا دیتے ہیں۔ ان کا انداز مکالماتی، بے ساختہ، اور مزاح سے بھرپور ہوتا ہے، جس میں قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود تارڑ صاحب کے برابر بیٹھا اُن کی باتیں سُن رہا ہے۔

ایسی ہی ایک دلچسپ کتاب ہے “گزارا نہیں ہوتا” — طنز و مزاح سے بھرپور کالموں کا مجموعہ، جس میں روزمرہ زندگی کی ان گتھیوں کو چھیڑا گیا ہے جن سے عام آدمی دن میں کئی بار الجھتا ہے۔ مگر مستنصر حسین تارڑ انہیں ایسی مزاحیہ چٹنی میں لتھڑ کر پیش کرتے ہیں کہ قاری ہنستے ہنستے سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہی کتاب کا کمال ہے کہ یہ “کبھی ہنساتی ہے، کبھی چونکاتی ہے”۔

آوازِاردو کی پیش کردہ ویڈیو میں اسی کتاب کے ایک کالم “خوشگوار! شادی شدہ زندگی اور تاریخی بیویاں” کو دل نشیں انداز میں سنایا گیا۔ مضمون کا آغاز عید کے موقع پر ملنے والے رنگ برنگے کارڈوں سے ہوتا ہے—ایسے کارڈ جن پر اونٹ بھی ہیں، ہلال بھی، پھول پتیاں بھی اور اشفاق احمد جیسے نابغوں کی دانائیاں بھی۔ مگر اصل قیمتی تحفہ وہ پیغام ہے جو “سعید احمد فارانی اسپرانتو سنٹر” کی جانب سے آیا، جس میں شادی شدہ زندگی کو خوشگوار بنانے کے دس اصول بیان کیے گئے تھے۔ اصول بھی کچھ ایسے کہ اگر سقراط، غالب، یا ٹالسٹائی کو وقت پر مل جاتے تو شاید وہ بھی بیگمات کے ہاتھوں ذلیل ہونے سے بچ جاتے۔

تارڑ صاحب ان اصولوں سے اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ فوراً بیگم صاحبہ کو سنا ڈالنے کا ارادہ کرتے ہیں، لیکن محترمہ کو فوراً یہ گمان ہوتا ہے کہ ہدایات “خاوندوں” کے لیے ہیں، اور عمل کی شروعات بھی انہی کو کرنی ہے۔ یہاں سے ایک شاندار مکالماتی جنگ کا آغاز ہوتا ہے جس میں طنز، معصومیت، شوہرانہ لاچاری اور بیوی کی ذہانت سب کچھ جھلکتا ہے۔ طنز کی ان لہروں میں تاریخی بیویوں کا ذکر بھی آتا ہے جنہوں نے اپنے شوہروں کو ناکوں چنے چبوائے—سقراط پر پانی کا گھڑا پھینکنے والی سے لے کر لنکن کی ناک کو نشانے پر رکھنے والی تک!

اس کالم کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ قاری اپنے آپ کو کسی نہ کسی موقع پر اس کہانی میں پاتا ہے۔ کہیں شوہر کے طور پر، کہیں تماشائی کے طور پر۔ اور سب سے بڑھ کر، یہ احساس بھی ساتھ لے کر اٹھتا ہے کہ زندگی اگرچہ کبھی کبھی گزارنے جیسی نہیں لگتی، مگر طنز و مزاح کے سہارے نہ صرف گزرتی ہے، بلکہ ہنسی خوشی گزرتی ہے۔

آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ مستنصر حسین تارڑ نہ ہوتے تو ہم شاید ہنستے ہوئے اپنے غموں کو پہچاننے کا سلیقہ بھی نہ سیکھ پاتے۔ “گزارا نہیں ہوتا” صرف ایک کتاب نہیں، ہمارے معاشرے، ہماری ازدواجی زندگی، اور ہمارے لطیف المیوں کا آئینہ ہے—ایک ایسا آئینہ جو دکھاتا بھی ہے اور ہنساتا بھی۔ اور یہی وہ توازن ہے جو صرف تارڑ صاحب کے قلم کو حاصل ہے۔

Leave a Comment