Target Audience Truth: Shocking Gaps and Amazing Opportunities

Target audience shapes every successful project. This is especially true for audiobooks and the increasing demand for Urdu voice content. Like WhatsApp, which became essential before people realised it, the audience for Urdu audiobooks is broader than assumed.

A New Dimension Beyond Traditional Readers

A common misconception is that AwazeUrdu’s audience is limited to existing lovers of Urdu literature. In reality, the mission is to engage an entirely new group: those who have not yet discovered Urdu’s literary treasures. Our main argument is that identifying and widening this audience is crucial for the project’s impact. By doing so, AwazeUrdu supports—not replaces—traditional reading while expanding access and relevance.

There are millions who once loved reading but got distanced from books because of busy routines or the rising cost of publications. For them, audiobooks bring back an easy and affordable way of reconnecting with literature. Similarly, parents want their children to learn correct pronunciation and grammar in Urdu. In today’s education system, many children grow up without even reading the Urdu script. Audiobooks fill this shocking gap and provide an amazing opportunity to bring Urdu back into their daily lives.

Global Spread of Urdu and Its Challenges

Around 250 million people in the world speak Urdu, most belonging to the Indian subcontinent. But here lies another truth about the target audience. In India, while cities like Lucknow and Delhi still produce clear Urdu speakers, the majority of the population cannot read the Urdu script. School systems often exclude Urdu, while Hindi, influenced by Sanskrit, dominates the media. As these communities migrate across the globe, their children grow up cut off from Urdu.

Pakistan’s Urdu speakers face a different challenge: their speech is increasingly mixed with English. Vocabulary is shrinking, and the pure flavor of the language is fading. For such communities, audiobooks become the best solution for preserving correct pronunciation and cultural connection.

Internal Reference to Urdu Blogs Section

On my website, under the Urdu Blogs” section, these articles can be read in both Urdu and English.

This reflects the dual-language effort of AwazeUrdu, where readers and listeners can access ideas in both languages, ensuring inclusivity for a global target audience.

A Medium for All Ages and Needs

Audiobooks are not just for the young. Older generations, who may struggle with weak eyesight or lack of familiarity with modern devices, can also benefit. They still love their language and want to pass it on to their children. Yet what they hear in the media is often a mixture of different tongues and accents. Audiobooks provide them with pure, clear, and accessible Urdu.

Preserving Heritage for Future Generations

AwazeUrdu has already started the mission of converting educational, entertaining, and constructive literature into audio format. The shocking reality is that without such efforts, both literary heritage and correct pronunciation may be lost to future generations. The amazing opportunity lies in the fact that every individual can play a part in preserving this cultural treasure. By expanding the target audience, audiobooks promise not just survival but the revival of Urdu’s beauty in modern times.

کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے، یعنی انسان جس چیز کی حاجت محسوس کرتا ہے، وہی ایجاد کرلیتا ہے۔ مگر اگر ہم اپنے اردگرد نگاہ ڈالیں تو بہت سی ایسی چیزیں بھی نظر آتی ہیں، جن کی ضرورت کا انسانوں کو پہلے احساس ہی نہیں تھا، لیکن جب وہ ایجاد ہوکر عام ہو گئیں تو یوں زندگی کا حصہ بن گئیں کہ اب ان کے بغیر جینا دشوار لگتا ہے۔ مثال کے طور پر واٹس ایپ۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض لوگ مستقبل کی ممکنہ ضروریات کو پیش نظر رکھ کر ایسی ایجادات پر کام شروع کردیتے ہیں، جن کی حقیقی ضرورت کا شعور عوام کو بعد میں ہوتا ہے۔ آوازِ اردو بھی اسی نوع کی ایک کاوش ہے۔

میں پہلے بھی کئی مضامین میں اس منصوبے کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈال چکا ہوں، جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اردو بولنے والے طبقے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ طبقہ برین ڈرین کے باعث تیزی سے دیگرممالک میں پھیل رہا ہے۔ میری ویب سائٹ پر “اردو بلاگز” سیکشن کے تحت یہ مضامین اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں پڑھے جاسکتے ہیں۔ آج میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آوازِ اردو کے متوقع سامعین کون لوگ ہیں اور یہ منصوبہ کن طبقات تک پہنچنے کا خواہاں ہے۔

جب میں کہتا ہوں کہ اردو ادب کو آڈیو فارمیٹ میں منتقل کرنے کی کوشش کررہا ہوں، تو اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے گاہگ وہی ہوں گے جو پہلے ہی اردو ادب سے وابستہ ہیں۔ یعنی وہی افراد آڈیو کتابیں خریدیں گے جو کاغذی کتابیں خریدا کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ مطبوعہ کتاب خرید رہے ہیں تو پھر آڈیو کتاب کی طرف کیوں آئیں گے؟ آوازِ اردو کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ قارئین سے کاغذی کتاب چھین لی جائے، بلکہ یہ ہے کہ ایک نیا طبقہ سامنے آئے جو اب تک اس خزانے سے بےخبر ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ کتابوں میں ان کی دلچسپی کا کتنا سامان پوشیدہ ہے۔

مزید یہ کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کبھی کتب بینی کے عادی تھے مگر مصروفیات یا مہنگائی کے باعث دور ہوگئے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح دوسری زبانوں میں صوتی  کتابوں کا رواج ہے، اردو میں بھی اسی طرح عام ہو۔ ایسے والدین بھی ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اردو سیکھیں، ان کا تلفظ اور گرائمر درست ہو، کیونکہ موجودہ تعلیمی نظام میں وہ اردو رسم الخط پڑھنے سے ناآشنا رہ جاتے ہیں۔

دنیابھر میں اردو بولنے والوں کی تعداد لگ بھگ پچیس کروڑ ہے، جن کی اکثریت برصغیر پاک و ہند سے تعلق رکھتی ہے۔ ہندوستان کے لکھنؤ اور دہلی جیسے علاقوں کے لوگ تو صاف اردو بولتے ہیں اور ان کا لہجہ بعض پاکستانیوں سے بھی بہتر ہے، مگر ہندوستان کی بڑی آبادی اردو رسم الخط سے ناواقف ہے۔ وہاں کے تعلیمی نصاب میں اردو پڑھائی نہیں جاتی اور میڈیا پر جو زبان رائج ہے وہ سنسکرت زدہ ہندی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب وہ لوگ دنیا بھر میں تعلیم یا ملازمت کے لیے آباد ہوتے ہیں تو ان کی نسلیں اردو سے بالکل کٹ جاتی ہیں۔ پاکستان کے اردو بولنے والے بھی اپنی گفتگو میں انگریزی کے بےشمار الفاظ شامل کرتے ہیں اور یوں ان کا ذخیرہ الفاظ محدود ہوتا جارہا ہے۔

ایسے حالات میں اگر کوئی اپنے بچوں اور آنے والی نسل کو زبان سے جوڑے رکھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے بہترین ذریعہ صوتی کتابیں ہیں۔ وہ لوگ جنہیں پہلے ہی ادبی ذوق ہے، وہ کسی نہ کسی طرح پڑھنے کا شوق پورا کرلیتے ہیں، مثلاً کتاب خرید نہ سکیں تو ریختہ جیسی ویب سائٹس سے پی۔ڈی۔ایف کتابیں حاصل کرلیتے ہیں۔ لیکن جو پڑھنا نہیں جانتے، یا عمررسیدگی، نظر کی کمزوری یا ٹیکنالوجی سے ناواقفیت کی وجہ سے کمپیوٹر اور موبائل استعمال نہیں کرسکتے، وہ کہاں جائیں؟ ایسے  لوگ اپنی زبان سے محبت رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی آئندہ نسل صاف اور درست تلفظ کے ساتھ اردو بولے۔ مگر میڈیا پر جو زبان سنائی دیتی ہے، وہ کئی زبانوں اور لہجوں کا ایک ملغوبہ ہے۔

اسی لیے لازم ہے کہ عوام میں صوتی کتابوں کے حوالے سے شعور بیدار کیا جائے اور آوازِ اردو کی کوششوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ یہ ادارہ تعلیمی، تفریحی اور تعمیری ادب کو آڈیو فارمیٹ میں منتقل کرنے کا آغاز کرچکا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ ہر شخص اس کام میں اپنا حصہ ڈالے تاکہ نہ صرف ہمارا ادبی ورثہ محفوظ رہے بلکہ آنے والی نسلوں تک اردو کا صحیح تلفظ بھی پہنچ سکے۔

Leave a Comment