Knowledge and Wisdom: The Power and Peril That Shape Humanity

The Essence of Knowledge and Wisdom

Knowledge and wisdom elevate humanity above other creatures. They enable man to recognize himself, explore the universe, and comprehend existence. Knowledge gives humans the power to think, plan, and understand—traits no other species possesses. This understanding lets mankind create, innovate, and lead.

Bilal urRashid, in his insightful column Ilm Ki Iqsam” (The Types of Knowledge) published in Daily Jang on February 14, 2024, reflects on how knowledge and wisdom form the true foundation of human excellence. He beautifully argues that science categorises life into plants and animals, and although humans biologically belong to the latter, their intellectual and reflective powers distinguish them completely.

The Power of Knowledge

Knowledge has always driven human progress. Through knowledge and wisdom, nations have discovered energy, explored stars, and sustained life. Bilal urRashid notes that those who mastered sources of power—solar, water, coal, oil, or nuclear—became leaders. He adds that if Pakistan had not developed nuclear capability, it could have faced devastating consequences from its rivals.

These examples show that knowledge and wisdom are practical tools for survival, not just ideals. But used without morality, they can bring peril—war, greed, and destruction. Wisdom guides knowledge, preventing chaos.

The Types of Knowledge and Their Meaning

The writer further elaborates on the types of knowledge, showing how each reveals a unique aspect of existence. Earth sciences teach us how life is sustained with a delicate balance — in oceans, minerals, and magnetic fields. The study of fossils explains how life began and how catastrophic events once wiped out entire species. The extinction of dinosaurs due to a meteor impact 65 million years ago, Bilal urRashid notes, is one such reminder of nature’s power and vulnerability.

He also discusses planetary science, which enables us to understand celestial bodies — the Earth, Moon, and planets — not through myth but through evidence. The Qur’anic verse he cites, which speaks of signs in the alternation of night and day, reinforces that true understanding comes from reflection, observation, and wisdom.

The Peril of Misused Knowledge

When knowledge and wisdom are separated, the outcome is perilous. Knowledge without wisdom becomes dangerous — it fuels arrogance, ambition, and the pursuit of material dominance. Wars, environmental damage, and moral decay are the direct results of intellect divorced from conscience. Bilal urRashid’s reflections remind us that without a spiritual dimension, man’s achievements remain incomplete, for he forgets the purpose of his own existence.

The Path to Human Excellence

Ultimately, knowledge and wisdom lead humanity toward self-realisation. They teach us that our true superiority lies not in conquest but in understanding, not in possession but in reflection. When humans use their intellect with humility, they rise spiritually; when they use it for selfish desires, they fall to the level of beasts.

Bilal u Rashid’s column is, therefore, not just a discussion of the types of knowledge, but a profound invitation to restore balance between intellect and morality — a harmony where knowledge enlightens and wisdom uplifts.

You can read this column online by clicking the link below.

https://e.jang.com.pk/detail/629397

If you’d like to listen to any article in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the Urdu voiceover.

You can also watch the same video on these social media platforms.

A Call to Reflect and Reconnect

In the end, the message is clear — Knowledge and Wisdom are not just the privileges of the mind but the responsibilities of the soul. Every generation inherits both the power and the peril of knowledge, and it is up to us to decide which path we take. The more we seek knowledge with humility, the closer we move toward wisdom; the more we use it without conscience, the further we drift from humanity. Let us therefore commit ourselves to learning with purpose, thinking with balance, and acting with compassion. Only then can Knowledge and Wisdom truly shape a world where progress is guided by understanding, and power is tempered by morality.

انسان کی پہچان اور برتری کی اصل بنیاد علم ہے۔ یہی وہ جوہر ہے جس نے اسے دیگر مخلوقات پر فضیلت بخشی۔ علم انسان کو اپنی ذات، کائنات اور خالق کے نظامِ ہستی کو سمجھنے کی بصیرت عطا کرتا ہے۔ اسی کے ذریعے وہ زمین و آسمان کے اسرار تک رسائی حاصل کرتا اور اپنی زندگی کے مقصد کو جاننے کے قابل بنتا ہے۔ علم نہ صرف ترقی و تہذیب کا زینہ ہے بلکہ روحانی و اخلاقی شعور کا سرچشمہ بھی ہے۔

علم کی اقسام اور اس کی معنویت پر معروف کالم نگار بلال الرشید نے ایک نہایت بصیرت افروز مضمون تحریر کیا، جو 14 فروری 2024ء کو روزنامہ جنگ میں “علم کی اقسام” کے عنوان سے شائع ہوا۔

بلال الرشید ایک فعال اور صاحبِ طرز اردو کالم نگار ہیں، جن کے مضامین مختلف معتبر اخبارات میں باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔ وہ معروف صحافی ہارون الرشید کے صاحبزادے ہیں، لیکن اپنی تحریری بصیرت اور فکری گہرائی کے باعث انہوں نے ایک الگ ادبی و صحافتی شناخت قائم کی ہے۔ ان کے کالم عموماً معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی موضوعات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان کا اندازِ بیان سنجیدہ، متوازن اور قاری کو سوچنے پر آمادہ کرنے والا ہے۔ بلال الرشید نوجوان نسل کو فکری بیداری اور ذمے داری کا احساس دلانے کے لیے اپنے مضامین میں گہرے نکات پیش کرتے ہیں۔

بلال الرشید لکھتے ہیں کہ سائنس زندگی کو دو اقسام میں تقسیم کرتی ہے: پودے اور جانور۔ انسان چونکہ حیاتیاتی اعتبار سے جانوروں ہی میں شمار ہوتا ہے، اس لیے جسمانی طور پر وہ ان سے مختلف نہیں۔ اس میں خون کی گردش، دل کی دھڑکن، تولید اور دماغی ساخت سب کچھ جانوروں جیسا ہے۔ صرف غور و فکر اور منصوبہ بندی کی صلاحیت ہی ہے جو انسان کو ممتاز بناتی ہے۔ بلال الرشید کے مطابق انسانوں میں جو مسلسل جھگڑے، جنگیں اور خواہشات کا تصادم نظر آتا ہے، وہ بھی ایک حیوانی مظہر ہے۔

ان کے خیال میں انسان کی برتری کا اصل سبب علم ہے۔ یہی علم اسے دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ بلال الرشید حضرت شیخ علی بن عثمان ہجویریؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ:

“ہر علم میں سے اتنا ضرور حاصل کرو جتنا خدا کی شناخت کے لیے ضروری ہے۔”

بلال الرشید کے مطابق زمین کے بارے میں سیکھنے والا علم، جسے ارتھ سائنسز (Earth Sciences) کہا جاتا ہے، یہ بتاتا ہے کہ کس طرح زندگی کو نہایت نزاکت اور توازن کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔ زمین کی بناوٹ، اس کے سمندر، فضا، معدنیات اور مقناطیسی میدان — سب مل کر ایک حیرت انگیز نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔

وہ مزید بیان کرتے ہیں کہ فاسلز (Fossils) کے علم سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر زندگی کب شروع ہوئی، اور کس طرح بعض ادوار میں بڑے تباہ کن حادثات نے زندگی کی اکثریت کو ختم کر دیا۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے ایک دم دار ستارہ میکسیکو میں آ گرا، جس کے نتیجے میں زمین کے 75 فیصد جاندار، بشمول ڈائنا سارز، ختم ہو گئے۔

بلال الرشید کے مطابق زمین پر زندگی کی باہمی وابستگی بھی نہایت دلچسپ ہے۔ شیر کا ہرن کا شکار کرنا، گدھوں اور دیگر مردار خوروں کا اپنا حصہ لینا، حتیٰ کہ خوردبینی جانداروں تک کا اس نظام میں شامل ہونا — یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ زندگی کی ہر قسم ایک دوسرے پر منحصر ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگر ہاتھی اور اونٹ گوشت خور ہوتے تو دنیا کا نظام بالکل مختلف ہوتا۔

مصنف توانائی کی مختلف اقسام کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انسان نے سورج، پانی، کوئلہ، تیل، گیس اور ایٹمی ذرّات سے طاقت حاصل کی۔ جن اقوام نے ان ذرائع کو سمجھ لیا، وہی ترقی یافتہ ہو گئیں۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ امریکا نے ایٹم سے توانائی حاصل کر کے دوسری جنگِ عظیم میں برتری حاصل کی، اور اگر پاکستان ایٹم بم نہ بناتا تو بھارت اسے ختم کر دیتا۔

اسی طرح وہ علمِ فلکیات (Planetary Science) کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ علم اندازوں پر نہیں بلکہ ٹھوس شواہد پر مبنی ہے۔ اس کے ذریعے ہم زمین، چاند، سیاروں اور ان کی حرکات کو سمجھتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی آیت کی روشنی میں وہ کہتے ہیں کہ دن اور رات کے بدلنے میں، زمین و آسمان کی تخلیق میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں — اور یہ سمجھ بوجھ فلکیاتی علم سے حاصل ہوتی ہے۔

بلال الرشید کے مطابق، یہی وہ علوم ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان عطا کرتے ہیں۔ ان علوم کے ذریعے انسان سمجھ پاتا ہے کہ وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے، اور اس دنیا میں اس کا مقصد کیا ہے۔ لیکن اگر زندگی صرف خواہشات پوری کرنے، مادّی فائدے سمیٹنے اور طاقت کے حصول تک محدود رہ جائے، تو پھر انسان اور جانور میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔

یوں بلال الرشید کا یہ کالم علم کے احترام، فکری توازن اور انسان کی روحانی بلندی کے احساس کی ایک خوبصورت دعوت ہے۔

Leave a Comment