Business Planning for Startups: Avoid Deadly Mistakes, Achieve Success

Business planning is the single most important factor that decides whether a new startup will succeed or collapse under the weight of financial pressure. In today’s fast-paced business world, passion, creativity, or even a strong idea is not enough. What truly matters is the clarity of your roadmap — your expenses, your capacity, your resources, and the limits you should never cross. Mufti Muhammad Owais Paracha’s practical insights beautifully combine modern entrepreneurial principles with Islamic ethical guidance, making his advice valuable for every aspiring entrepreneur.

Why Business Planning Matters from Day One

Many people enter business with excitement but without proper preparation. They often assume that hard work and motivation will automatically generate profit. However, reality is different. According to Paracha, most businesses fail not because the idea was weak or the owner lacked dedication, but because business planning was incomplete or entirely missing.

If a startup begins without understanding its real expenses, operational challenges, or early financial pressures, failure becomes inevitable. Just as no one builds a house without a blueprint, no one should start a business without a written financial plan.

Understanding Costs: The Foundation of Smart Business Planning

A major strength of Paracha’s approach is his emphasis on identifying the two essential types of costs:

1. Variable Costs

These are expenses that fluctuate with production — such as raw materials, packaging, milk, tea leaves, cloth, cups, or leather. When work increases, these costs rise; when work slows down, they drop. This makes them easier to manage during early business months.

2. Fixed or Overhead Costs

These include rent, electricity bills, staff salaries, and utility payments — expenses that must be paid whether sales happen or not. Too many fixed costs create pressure that destroys young startups.

Effective business planning always aims to keep fixed costs as low as possible during the first year to avoid unnecessary financial stress.

Assessing Capital and Resources Honestly

One of the most common mistakes new entrepreneurs make is investing all their money in a shop or physical setup — leaving nothing for stock, marketing, or early losses. Paracha highlights two questions every business owner must answer before starting:

* How much total capital do I truly have?

* If needed, can I secure additional investment — realistically?

Some businesses begin with little money, but many cannot. Proper business planning helps determine whether your money is enough only to start the business or enough to run it safely for months.

The First Year: The Hardest Phase

Paracha advises that the first year must be planned like a survival mission. You must calculate not just business expenses but also household needs, emergency funds, children’s fees, and unexpected costs. Priority lists are essential, and unnecessary expenses must be minimized. The goal is simple:

* Lower household expenses

* Lower overhead business costs

* Find cheaper alternatives for electricity, rent, and labor.

Good business planning shields a startup from early financial shocks.

Price, Profit, and Break-Even: The Real Decision Point

A business cannot run on assumptions like “profit will come eventually.” Every decision must be mathematical:

* Purchase price

* Transportation charges

* Labor

* Small overheads

* Expected selling price

* Realistic profit per unit

From these numbers, the break-even point is calculated — the minimum sales required per month to cover all expenses. If a startup cannot reach break-even within the first year, Paracha advises not to start that business at all. This is one of the most valuable business planning insights for beginners.

The U-Turn Point: Protecting Mental and Financial Health

Every business must have a “stop-loss limit” — a point at which you decide that further loss is unacceptable. This includes:

* Total monthly losses

* The financial damage of closing the business

Adding both gives you a clear boundary. This limit protects entrepreneurs from emotional decision-making and prevents long-term financial damage.

Written Planning: The Key to Peace of Mind

Paracha strongly recommends writing everything down — expenses, capital, targets, limits, and deadlines. Written business planning reduces stress, exposes errors, and improves decision-making. It also helps entrepreneurs stay disciplined and realistic during tough months.

He also reminds readers that most businesses do not profit in the first year. Real stability usually appears in the second or third year. The real question is:

Can you survive the first three years?

If yes, start. If not, look for a better direction.

Final Thought: Passion Starts a Business, but Planning Sustains It

Paracha’s message is simple yet powerful:

Business begins with emotion — but survives with strategy.

When expenses are clear, break-even is calculated, limits are defined, and decisions are written, a business grows with confidence and stability. And this is exactly what smart business planning delivers — a safe, organized, and successful entrepreneurial journey.

If you’re interested in reading this book, click the link below for a free download.

https://drive.google.com/file/d/19SEXsMk8sLJSIqHT07FgtVEXQYwrT0d1/view?usp=sharing

If you’d like to listen to this book in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the audiobook.

You can also watch the same video on these social media platforms.

آج کے دور میں کاروبار کا آغاز محض ایک جذبے کا نام نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور سوچے سمجھے عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ بہت سے لوگ اچھا آئیڈیا رکھنے کے باوجود ناکافی منصوبہ بندی، ناقص حساب کتاب اور حقیقی اخراجات سے غفلت کے باعث چند ہی ماہ میں ناکامی کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ضرورت ہوتی ہے ایسی رہنمائی کی جو نہ صرف جدید کاروباری اصولوں پر مبنی ہو بلکہ عملی زندگی کے تجربات اور اسلامی رہنما اصولوں کو بھی یکجا کرے۔مفتی محمد اویس پراچہ صاحب نے اپنی کتاب میں کماحقہ یہ رہنمائی فراہم کی ہے۔

محمد اویس پراچہ ایک باصلاحیت پاکستانی محقق، فقیہ اور مصنف ہیں جنہوں نے جدید معاشی مسائل اور کاروباری معاملات کو اسلامی فقہ کے آئینے میں جانچنے اور سمجھانے کو اپنا خاص میدان بنایا ہے۔ جامعۃ الرشید سے دینی تعلیم اور جدید مالیات کی اعلیٰ تعلیم نے انہیں ایسا منفرد علمی مقام دیا ہے جہاں فقہی بصیرت اور معاشی فہم ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کی تحریریں ڈیجیٹل فنانس، کرپٹو کرنسی، کاروباری اخلاقیات اور شریعہ کمپلائنس جیسے پیچیدہ موضوعات کو نہایت وضاحت اور روانی سے بیان کرتی ہیں۔ عملی کاروباری تجربات نے انہیں حقیقی مسائل کے قریب کیا ہے، جس کے باعث ان کی تحریریں نظری گفتگو سے آگے بڑھ کر عملی مثالوں، واقعات اور قابلِ عمل رہنمائی سے مزین نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان طلبہ، نئے کاروباری افراد اور مذہبی طبقہ ان کی تحریروں سے یکساں استفادہ کرتے ہیں۔

کتاب ’’نیا کاروبار کیسے شروع کریں؟‘‘ مفتی محمد اویس پراچہ کی ایک مختصر مگر نہایت جامع اور عملی رہنمائی پر مبنی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں وہ تمام مراحل بیان کیے گئے ہیں جو ایک نئے کاروبار کو کامیابی کی طرف لے جانے کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ مصنف نے کاروبار شروع کرنے سے پہلے اپنی صلاحیتوں، وقت، سرمایہ اور مہارتوں کے جائزے سے لے کر مناسب بزنس آئیڈیا کی تلاش، اس کی بہتری، آپریشنل پلاننگ، معاشی منصوبہ بندی، بریک ایون پوائنٹ، خریدوفروخت، قیمتوں کے تعین، جگہ کے انتخاب، ٹیم بلڈنگ اور مارکیٹنگ تک وہ تمام نکات ایک مربوط ترتیب کے ساتھ سمجھائے ہیں۔ اس کتاب کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ یہ نہ صرف جدید کاروباری اصولوں پر مبنی ہے بلکہ شرعی اور اخلاقی پہلوؤں کو بھی بھرپور اہمیت دیتی ہے۔ عملی مثالیں، حقیقی واقعات اور کیس اسٹڈیز اس کتاب کو عام فہم اور قابلِ عمل بناتی ہیں۔ ہر وہ نوجوان، ملازم یا طالب علم جو نوکری چھوڑ کر کاروبار کی دنیا میں قدم رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس کتاب سے محفوظ، منظم اور مؤثر آغاز کے اصول سیکھ سکتا ہے۔

معاشی پلان کے بارے میں اس کتاب کا ایک مضمون آوازِاردونے اپنی ویڈیو میں پڑھ کرسنایاہے، جس میں پراچہ صاحب لکھتے ہیں کہ کاروبار کی ناکامی کی بڑی وجہ غلط آئیڈیا یا محنت کی کمی نہیں ہوتی، بلکہ وہ غلط یا ادھورا معاشی منصوبہ ہوتا ہے جو آغاز سے پہلے بننا چاہیے اور نہیں بنتا۔ بہت سے لوگ کاروبار اس وقت بند کرتے ہیں جب مسلسل نقصان برداشت نہ ہو، حالانکہ اگر وہ شروع میں مالی حقیقتوں کا جائزہ لے لیتے تو یا تو کاروبار بہتر چلتا یا وہ اس نقصان سے پہلے ہی رک جاتے۔ مصنف کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ بغیر مالی نقشے کے کاروبار شروع کرنا ایسا ہی ہے جیسے بغیر نقشے کے گھر بنانا—نتیجہ بے ترتیبی اور بربادی۔

اخراجات کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟

ہر کاروبار میں دو طرح کے اخراجات ہوتے ہیں:

1متغیر اخراجات:

وہ خرچے جو پیداوار یا فروخت کے ساتھ بڑھتے گھٹتے ہیں۔ یعنی جتنا مال تیار ہوگا، خرچہ بھی اسی تناسب سے ہوگا۔ مثال کے طور پر کپ، چائے پتی، دودھ، چمڑا، کپڑا وغیرہ۔ اگر کام کم ہو تو یہ خرچہ خود بخود کم ہو جاتا ہے، اس لیے یہ کاروبار پر مستقل دباؤ نہیں ڈالتا۔

2مستقل یا اوور ہیڈ اخراجات:

وہ خرچے جو ہر حال میں دینے پڑتے ہیں، چاہے فروخت ہو یا نہ ہو۔ جیسے کرایہ، ملازم کی تنخواہ، بل وغیرہ۔

مصنف سمجھاتے ہیں کہ نئے کاروبار میں زیادہ سے زیادہ اخراجات متغیر رکھنے چاہئیں تاکہ شروع کے مہینوں میں مالی دباؤ نہ بڑھے۔

سرمایہ اور وسائل کا حقیقت پسندانہ جائزہ

بہت سے کاروبار اس لیے ناکام ہوتے ہیں کہ مالکان صرف دکان یا جگہ کے پیچھے بڑی رقم لگا دیتے ہیں اور پھر خریداری، مارکیٹنگ یا ابتدائی خسارے برداشت کرنے کے لیے رقم نہیں بچتی۔

مصنف کی رائے میں پہلے دو سوال ہر حال میں پوچھیں:

میرے پاس کل سرمایہ کتنا ہے؟

اضافی سرمایہ کہاں سے مل سکتا ہے اور آیا مل بھی سکتا ہے یا نہیں؟

بعض کاروبار کم پیسوں سے بھی شروع ہو جاتے ہیں، مگر ہر کاروبار ایسا نہیں۔ اس لیے درست اندازہ لازمی ہے کہ آیا سرمایہ صرف شروع کرنے کے لیے کافی ہے یا چلانے کے لیے بھی۔

پہلے سال کے اخراجات کی مکمل تصویر بنائیں

کاروبار کے پہلے سال میں صرف کاروباری خرچے نہیں بلکہ گھریلو ضروریات، ہنگامی حالات اور ابتدائی سیٹ اَپ کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ مصنف کا مشورہ ہے کہ ان سب کو ایک جگہ لکھ کر ترجیح کے مطابق ترتیب دیں۔

پہلا سال اکثر کاروباری لحاظ سے بھاری ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ:

گھریلو اخراجات کم ہوں

کاروبار کے اوور ہیڈ اخراجات کم سے کم ہوں

بجلی، ملازم، کرایہ وغیرہ میں متبادل اور کم خرچ حل تلاش کیے جائیں

یوں کاروبار ابتدائی دباؤ سے بچ جاتا ہے۔

قیمت، نفع اور بریک ایون — اصل فیصلے کا مرحلہ

مصنف واضح کرتے ہیں کہ صرف ’’نفع ہوگا‘‘ سوچ لینے سے کاروبار نہیں چلتا۔ ہر چیز کا حساب ضروری ہے:

چیز خریدنے کی اصل قیمت

مال باربرداری کےاخراجات

محنت، بجلی، وقت، چھوٹے اخراجات

بازار میں ممکنہ فروخت قیمت

فی یونٹ نفع

پھر ان سب سے بریک ایون پوائنٹ معلوم ہوتا ہے—

یعنی ماہانہ کم از کم اتنی فروخت جو آپ کے تمام اخراجات پورے کر سکے۔

مصنف زور دیتے ہیں کہ:

اگر بریک ایون پہلے سال کے اندر ممکن ہو تو کاروبار مناسب ہے۔

اگر نہیں — تو وہ کاروبار شروع ہی نہیں کرنا چاہیے۔

یوٹرن پوائنٹ — نقصان کی آخری حد

ہر کاروبار کو ایک ’’نقطۂ واپسی‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔

یعنی وہ حد جہاں پہنچ کر فیصلہ کرنا ہے:

اب مزید نقصان برداشت نہیں کرنا!

اس میں دو چیزیں شامل ہوتی ہیں:

ہر مہینے ہونے والا نقصان

کاروبار بند کرنے سے ہونے والا نقصان

ان دونوں کو جمع کرکے ایک واضح حد مقرر کی جاتی ہے۔

یہ حد نجات بھی ہے اور حفاظت بھی، کیونکہ بغیر حد کے کاروبار انسان کو مالی اور ذہنی تباہی تک لے جاتا ہے۔

تحریری منصوبہ — ذہنی دباؤ کم، فیصلہ بہتر

مصنف کا ایک اہم مشورہ یہ ہے کہ منصوبہ صرف ذہن میں نہ رکھیں بلکہ تحریری شکل دیں۔

تحریر:

غلطیوں سے بچاتی ہے

اخراجات کی درست تصویر دیتی ہے

ذہنی دباؤ کم کرتی ہے

فیصلہ بہتر بناتی ہے

مصنف یہ حقیقت بھی بیان کرتے ہیں کہ پہلا سال اکثر منافع بخش نہیں ہوتا۔ زیادہ تر کاروبار دوسرے یا تیسرے سال جا کر مستحکم ہوتے ہیں۔ اس لیے اصل سوال یہ ہے:

کیا آپ تین سال برداشت کر سکتے ہیں؟

اگر ہاں — تو شروع کریں۔ اگر نہیں — تو بہتر راستہ تلاش کریں۔

دنیا میں کاروبار بے شمار ہیں۔ مقصد ’’ایک کاروبار‘‘ نہیں، ’’صحیح کاروبار‘‘ کا انتخاب ہے۔

مفتی محمد اویس پراچہ دراصل یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ کاروبار جنون سے نہیں، جامع منصوبہ بندی سے کامیاب ہوتا ہے۔ اگر اخراجات واضح ہوں، نفع کا حساب درست ہو، بریک ایون سامنے ہو اور ایک حد مقرر ہو کہ کہاں رکنا ہے، تو کاروبار دماغی سکون کے ساتھ چلتا ہے، اور کامیابی کا امکان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

ان کا پیغام سادہ ہے:

جذبات کاروبار شروع کر سکتے ہیں، مگر عقل اسے چلاتی ہے۔

Leave a Comment