Influencer Marketing has emerged as one of the most powerful forces shaping today’s digital economy. It is a phenomenon where ordinary individuals, through their influence and credibility, can promote brands, ideas, or lifestyles to millions worldwide. Yet, as the title suggests, it is a double-edged sword — a power that can either build communities or merely serve self-interest. Few people truly understand how to use this influence constructively, and among them, Dr. Zeeshan Ul Hassan Usmani stands out as a shining example.
The Power of Influence: Blessing or Burden?
Influence is a divine gift — the ability to inspire minds, drive emotions, and shape decisions. Some uplift society with this gift, while others exploit it for personal gain. Influencer Marketing reflects this moral balance, empowering meaningful impact or leading to superficial popularity. Dr. Usmani’s writings remind us that influence, when guided by intellect and ethics, can transform not just individuals but entire societies.
Dr. Zeeshan Usmani’s Vision for Youth
Dr. Zeeshan Ul Hassan Usmani — a renowned Pakistani researcher, author, and data scientist — has been instrumental in guiding young minds toward self-reliance and innovation. His book “How to Make Money from the Internet” provides practical insight into how individuals can utilize their knowledge, creativity, and influencer marketing skills to earn a respectable livelihood online.
Rather than treating social media as a distraction, he views it as a dynamic marketplace filled with opportunities for those who think smartly and work ethically. His message to youth is clear: turn your influence into impact, not into vanity.
What Is Influencer Marketing?
At its core, Influencer Marketing is a collaboration between brands and influential personalities who have a loyal following on platforms like Instagram, YouTube, TikTok, or X (formerly Twitter). These influencers promote products, services, or causes by leveraging the trust they’ve built with their followers.
Unlike traditional celebrity endorsements, social media influencers connect on a personal level — their audience relates to them, believes in them, and often acts on their recommendations. This is why brands increasingly rely on influencer campaigns to reach potential customers in an authentic way.
The Evolution of Influence
A decade ago, brand promotion was limited to actors, athletes, or media figures. Today, however, even micro-influencers with a few thousand followers can impact consumer behavior. Influencer Marketing has democratized fame — anyone with passion, persistence, and valuable content can build a global audience.
Dr. Usmani emphasizes that success in this field doesn’t require fame but consistency, quality content, and audience trust. He shares three golden rules:
1. Create high-quality content regularly.
2. Engage your audience authentically.
3. Join influencer networks to connect with brands seeking partnerships.
From Followers to Fortune: The Business Behind Influence
Modern influencers have turned creativity into a profession. From unboxing videos to brand collaborations, they earn income through promotions, affiliate marketing, and sponsored content. According to recent studies, nearly 67% of North American retailers now include influencer strategies in their marketing plans. Platforms like Instagram remain the most profitable, followed by YouTube and Facebook.
In Pakistan too, brands have started recognising the economic value of influencer campaigns — especially during social causes and public awareness drives such as COVID-19 information campaigns supported by TikTok creators.
Can Ordinary People Become Influencers?
Yes — and examples like Huda Kattan, an Iraqi-American beauty entrepreneur, prove it. Starting from scratch, she built a billion-dollar brand through authenticity and persistence. Her story reinforces Dr Usmani’s belief that success in Influencer Marketing comes not from fame but from effort, strategy, and consistent learning.
Ethics and Responsibility in Influence
However, every sword has two edges. When influencers misuse their power for manipulation, misinformation, or vanity, Influencer Marketing turns toxic. It can distort truth, exploit followers, and damage trust. Dr. Usmani’s perspective reminds us that ethical influence — rooted in honesty and value — is the only sustainable form of success.
True influence doesn’t exploit emotions; it educates, inspires, and empowers.
Conclusion: Turning Influence into Impact
Influence shapes outcomes in the digital age, but our approach defines its impact. Dr. Zeeshan Usmani illustrates that when influence is guided by knowledge and ethics, it creates meaningful impact—not just profit.
If you’re interested in reading this book, click the link below for a free download.
https://drive.google.com/file/d/1SX3SrG4udjtI6NuMSl_IDiJYeQLqX_Eq/view?usp=sharing
If you’d like to listen to this book in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the audiobook.
You can also watch the same video on these social media platforms.
Influencer Marketing can empower individuals and societies when practised responsibly. The true challenge is to transform digital fame into genuine, real-world impact by using influence ethically and purposefully.
اگر کسی انسان کو قدرت کی جانب سے اثر پذیری کی صلاحیت عطا ہو تو وہ چاہے تو اسے دوسروں کو متاثر کرنے، ان میں مثبت سوچ پیدا کرنے اور معاشرے کی بھلائی کے لیے استعمال کرے، یا پھر محض اپنی ذات کی تشہیر اور مفاد کے لیے بروئے کار لائے۔ دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو اپنی اس خداداد صلاحیت کو غیرسیاسی اور تعمیری انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ جدید دور میں انہی کم یاب افراد میں ایک نام ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی کا ہے، جنہوں نے اپنی علم دوستی اور بصیرت کے ذریعے نوجوان نسل کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اثر پذیری کی قوت کو معاشی اور سماجی بہتری کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اپنی کتاب ’’انٹرنیٹ سے پیسہ کیسے کمائیں‘‘ میں انہوں نے یہی بتایا ہے کہ انسان اگر اپنی قابلیت اور اثر انگیزی کو درست سمت میں لگائے تو انٹرنیٹ جیسے وسیع میدان میں باعزت روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی پاکستان کے ممتاز محقق، مصنف اور ماہرِ علومِ جدیدہ ہیں، جنہوں نے نوجوان نسل کو سائنسی فکر، خود انحصاری اور عملی علم کی طرف راغب کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ وہ ان اہلِ علم میں سے ہیں جنہوں نے علم کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی اور معاشی ترقی کا ذریعہ بنایا۔ ان کی تعلیم بیرونِ ملک سے ہے مگر ان کا دل ہمیشہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ان کی تصنیفات، خصوصاً انٹرنیٹ سے پیسہ کیسے کمائیں، نوجوانوں کو یہ سمجھاتی ہیں کہ اگر انسان محنت، خلوص اور سوجھ بوجھ کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے تو گھر بیٹھے بھی روزگار کمایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی کی یہ تصنیف ایک جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے، جس میں انٹرنیٹ کے ذریعے آمدنی کے عملی اور آزمودہ طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ کتاب میں فری لانسنگ، آن لائن کاروبار، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اور اثر انگیزی (انفلوئنسر مارکیٹنگ) جیسے جدید ذرائع سے کمائی کے اصول نہایت سادہ اور قابلِ فہم انداز میں سمجھائے گئے ہیں۔ یہ کتاب نوجوان نسل کے لیے صرف نظری معلومات نہیں بلکہ عملی مشوروں اور مثالوں سے مزین ایک مکمل رہنما ہے، جو انہیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔
کتاب کے جس باب کو آوازِ اردو نے اپنی ویڈیو میں پڑھا، وہ ’’انفلوئنسر مارکیٹنگ‘‘ سے متعلق ہے۔ اس باب میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر اثر انداز شخصیات یعنی ’’انفلوئنسرز‘‘ کس طرح اپنی شہرت اور ناظرین کے اعتماد کو استعمال کرتے ہوئے برانڈز اور مصنوعات کی تشہیر کرتی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ سوشل میڈیا پر باثَر شخصیت یعنی سوشل میڈیا انفلوئنسر کون ہوتا ہے؟
ایسا کوئی بھی شخص جسے پسند کرنے والوں (فالوورز) کی بڑی تعداد سوشل میڈیا پر موجود ہو، سوشل میڈیا انفلوئنسر کہلاتا ہے۔
یہ لوگ جس پلیٹ فارم پر مقبول ہوتے ہیں (مثلاً انسٹاگرام)، وہاں جو کچھ بھی شیئر کرتے ہیں، اسے لاکھوں اور کروڑوں افراد دیکھتے، پڑھتے اور دوسروں سے شیئر کرتے ہیں۔
انفلوئنسر مارکیٹنگ میں ان افراد کی اسی شہرت کو استعمال کرتے ہوئے مختلف برانڈز اپنی تشہیر کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ان کے برانڈ یا پروڈکٹ کا نام پہنچے اور صارفین بڑی تعداد میں اسے خریدنے پر آمادہ ہو جائیں۔
یوں کمپنی کو تشہیری فائدے کے ساتھ مالی نفع بھی حاصل ہوتا ہے۔
مصنف کےمطابق انفلوئنسر مارکیٹنگ دراصل کسی برانڈ (یا پروڈکٹ) اور سوشل میڈیا کی کسی مشہور شخصیت کے درمیان اشتراکِ عمل ہے
ماضی میں انفلوئنسر مارکیٹنگ
دس سال پہلے تک انفلوئنسر مارکیٹنگ صرف عوامی شہرت رکھنے والے افراد — مثلاً اداکاروں اور کھلاڑیوں — کے ذریعے کی جاتی تھی۔ انہیں بھاری معاوضے پر کسی خاص پروڈکٹ کا برانڈ ایمبیسیڈر(نمائندہ یا سفیر) بنایا جاتا تھا۔
یہ لوگ زیادہ تر اس پروڈکٹ کے اشتہارات یا متعلقہ پروگراموں میں نظر آتے تھے۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، لیکن اب سوشل میڈیا اسٹارز نے بھی انفلوئنسر مارکیٹنگ میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ البتہ سوشل میڈیا پر انفلوئنسر مارکیٹنگ کا طریقہ روایتی برانڈ ایمبیسیڈر سے کچھ مختلف ہے۔
سوشل میڈیا پر برانڈ پروموشن کیسے ہوتی ہے؟
ڈاکٹرصاحب کےمطابق جب کوئی سوشل میڈیا انفلوئنسر کسی برانڈ کے ساتھ پروموشن کا معاہدہ کرتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ باقاعدہ اس پروڈکٹ کے اشتہار میں بھی نظر آئے۔ اکثر وہ اپنی سوشل میڈیا پوسٹس (تصاویر، تحریریں یا ویڈیوز) میں اس برانڈ کے بارے میں بات کرتا ہے اور اپنے فالوورز کو اس سے آگاہ کرتا ہے۔ کبھی کبھار وہ کمپنی کی جانب سے بھیجی گئی ڈبہ بند پروڈکٹ کو کھول کر اس کی خصوصیات بیان کرتا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا انفلوئنسر مارکیٹنگ کی اصطلاح میں اسے”ان باکسنگ” کہا جاتا ہے۔
انفلوئنسرز کی مقامی اور عالمی پہنچ
عثمانی صاحب کہتے ہیں کہ کسی سوشل میڈیا انفلوئنسر کے فالوورز کسی خاص علاقے کے علاوہ پوری دنیا میں بھی ہوسکتے ہیں، اسی لیے انفلوئنسر مارکیٹنگ (اور اس سے ملنے والے معاوضے) کا دار و مدار ان کے دائرۂ اثر پر ہوتا ہے۔ مثلاً پاکستانی انفلوئنسرز سے کوئی امریکی برانڈ امریکہ میں اپنی پروموشن نہیں کروائے گا۔ البتہ پاکستان میں مقبول برانڈز ان سے رابطہ کرتے ہیں اور پاکستانی مارکیٹ میں اپنی تشہیر کرواتے ہیں، جس سے انہیں خاطر خواہ فائدہ ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی بڑھتی ہوئی اہمیت
اگر آپ سوشل میڈیا انفلوئنسر بننا چاہتے ہیں اور اوپر دیے گئے ناموں سے واقف نہیں تو پہلے ان کے کام سے خود کو آگاہ کریں۔
سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی مارکیٹ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ایک مطالعے کے مطابق شمالی امریکہ (امریکہ و کینیڈا) میں تقریباً سرسٹھ فیصد ریٹیلرز اپنی مارکیٹنگ منصوبہ بندی میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو ضرور شامل کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے حکومتِ پنجاب نے کورونا وائرس کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے مشہور پاکستانی ٹک ٹاکرز کی خدمات حاصل کیں۔اسی طرح عالمی ادارہ صحت نے بھی کورونا کے حوالے سے عوام کو باخبر رکھنے کے لیے ٹک ٹاک پر اپنا اکاؤنٹ بنایا، جب کہ انسٹاگرام، یوٹیوب اور فیس بک پر ان کے چینلز پہلے سے فعال تھے۔
اعداد و شمار اور رجحانات
ایک اندازے کے مطابق 2020ء کے اختتام تک دنیا کےچالیس فیصد سے زیادہ برانڈز اپنی سیلز میں اضافے اور صارفین کا اعتماد جیتنے کے لیے سوشل میڈیا مارکیٹنگ سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسّی فیصد سوشل میڈیا انفلوئنسرز انسٹاگرام کو سب سے زیادہ منافع بخش پلیٹ فارم سمجھتے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ فیس بک اور ٹوئٹر کی اہمیت کم ہے — یہ پلیٹ فارمز بھی انفلوئنسرز کے لیے آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ مثلاً بزنس چینل “بلوم برگ” کے مطابق، روزانہ ٹوئٹر استعمال کرنے والے 29 فیصد صارفین سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی تجویز کردہ مصنوعات خریدتے ہیں۔
سوشل میڈیا انفلوئنسر کون ہوتا ہے؟
غرض سوشل میڈیا انفلوئنسر وہ شخص ہوتا ہے جو کسی پروڈکٹ، برانڈ یا سروس کے ممکنہ صارفین پر اتنا اثر انداز ہو کہ وہ اسے خریدنے پر آمادہ ہو جائیں۔ یہ لوگ اپنی اثر پذیری کو مؤثر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔
ایک اچھا انفلوئنسر اس قابل ہوتا ہے کہ مخصوص ہدفی سامعین تک پہنچے، ان کا اعتماد جیتے، اور پھر اسی اعتماد کو برانڈ کے مفاد میں استعمال کرے۔ اکثر انفلوئنسرز اپنا مواد خود تیار کرتے ہیں جو دلچسپ، متوجہ کرنے والا اور یاد رہ جانے والا ہوتا ہے۔
برانڈز عام طور پر انہیں آزادی دیتے ہیں کہ وہ اپنے انداز میں — جو ان کے فالوورز کو پسند ہو — پروموشن کریں۔
کیا غیرمشہور انفلوئنسرز بھی کامیاب ہو سکتے ہیں؟
عام لوگ بھی ابتدا سے محنت کر کے عالمی سطح پر مقام حاصل کرسکتےہیں۔
اس ضمن میں عراقی نژاد امریکی بیوٹی ایکسپرٹ ہُدیٰ قطّان
ایک نمایاں مثال ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ محنت، مستقل مزاجی اور درست حکمتِ عملی سے غیر معروف لوگ بھی کامیاب انفلوئنسر بن سکتے ہیں ۔
کامیابی کے تین اصول
کامیاب انفلوئنسرز کی طرح بننے کے لیےڈاکٹرصاحب نے تین اصول بتائے ہیں۔:
- اعلیٰ معیار کا مواد یعنی کانٹینٹ مسلسل پیش کرتے رہیں۔
- یہ یقینی بنائیں کہ آپ کا مواد آپ کےمتوقع ناظرین کی بھرپور توجہ حاصل کرنے کے قابل ہو
- جب آپ کے فالوورز کی تعداد بڑھ جائے تو انفلوئنسر نیٹ ورک میں شمولیت اختیار کریں تاکہ آپ ان برانڈز تک پہنچ سکیں جو مستقبل میں آپ سے اشتراک کر سکتے ہیں۔
انفلوئنسرنیٹ ورکس کی اہمیت
نئے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے لیے انفلوئنسر نیٹ ورکس نہایت اہم ہوتے ہیں، کیونکہ ابتدائی مرحلے میں وہ براہِ راست برانڈز سے رابطہ نہیں کر پاتے۔ یہ نیٹ ورکس انہیں مناسب کلائنٹس سے ملوانے میں مدد دیتے ہیں — یعنی ایسے کلائنٹس جو ان جیسے انفلوئنسرز کی تلاش میں ہوں۔ یوں صرف چند ہزار فالوورز رکھنے والے افراد بھی بطور سوشل میڈیا انفلوئنسر کمائی کا آغاز کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی کی یہ کاوش دراصل نوجوانوں کے لیے ایک عملی نصاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے علم، محنت اور اثر پذیری کے امتزاج سے یہ واضح کیا ہے کہ جدید دنیا میں کامیابی صرف اُنہی کو ملتی ہے جو وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر ان سے فائدہ اٹھانا جانتے ہیں۔ ان کی تحریریں نہ صرف خود اعتمادی اور خود کفالت کا درس دیتی ہیں بلکہ یہ بھی سکھاتی ہیں کہ اگر انسان اپنے علم اور اثر کو صحیح سمت میں استعمال کرے تو وہ اپنی دنیا بھی سنوار سکتا ہے اور دوسروں کے لیے روشنی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔