Chess Player is more than a person who moves pieces across a board. In literature, a chess player often symbolises patience, strategy, obsession, intelligence, and the fascinating complexities of human psychology. This idea is explored brilliantly in a humorous essay by Ali Abbas Husaini, published in the celebrated 1953 Satire and Humour Special Issue of Aligarh Magazine, one of the most influential literary publications associated with Aligarh Muslim University.
The special issue occupies a distinguished place in the history of Urdu literature. Rather than treating humour merely as entertainment, the study presents satire and wit as serious literary forms worthy of critical study. The volume contains scholarly discussions on the evolution, techniques, and intellectual foundations of humour, alongside creative works that demonstrate these qualities in practice.
Among the contributors featured in this remarkable issue are some of the most respected names in Urdu literature. Readers of AwazeUrdu may recall that an essay by Rashid Ahmad Siddiqui from the same special issue was previously discussed in the article “The Timeless Art of Urdu Masnavi: A Literary Treasure.” This connection highlights the literary richness of the Aligarh tradition and its lasting contribution to Urdu prose and criticism.
Another memorable contribution from the issue is Ali Abbas Husaini’s essay “Shatranj Baz” (The Chess Player). Far more than a discussion of a board game, the essay offers a witty and insightful exploration of human nature. Through humour, exaggeration, and sharp observation, Husaini transforms the world of chess into a mirror reflecting human behaviour, social attitudes, and intellectual tendencies.
Ali Abbas Husaini and His Literary Legacy
Ali Abbas Husaini was a prominent fiction writer, critic, and dramatist in Urdu literature. Born in 1897 in a village of Ghazipur district in Uttar Pradesh, he received his education in Allahabad and Lucknow before entering the field of teaching. He eventually retired as Principal of Government Degree College, Lucknow.
His literary reputation rests largely on his fiction, particularly his sensitive portrayal of rural life, ordinary people, and social realities. His celebrated short story “Mela Ghoomni” remains an important work in Urdu fiction. Beyond storytelling, he also contributed significantly to literary criticism and research. His book “Urdu Novel Ki Tareekh Aur Tanqeed” continues to be regarded as an important reference in Urdu literary studies.
The Chess Player as a Psychological Character
The central attraction of Husaini’s essay lies in his portrayal of the Chess Player as a unique psychological type. According to him, most games involve physical effort, competition, or material gain. Chess, however, is almost entirely a mental exercise. Success depends on foresight, patience, concentration, and careful planning.
Because of these qualities, the chess expert is traditionally called a “shatir,” a word that originally referred to someone highly skilled in an art or discipline. Husaini humorously notes how the word has gradually acquired meanings associated with cleverness and trickery, creating an amusing contrast between linguistic history and popular usage.
His observations are not intended to glorify chess alone. Instead, they gently satirise the mindset of the Chess Player, revealing how intense intellectual engagement can sometimes turn into amusing obsession.
A Journey Toward Becoming a Chess Player
One of the essay’s most entertaining sections concerns the process of becoming a Chess Player. Husaini humorously suggests that reaching this stage requires passing through various experiences, hobbies, and distractions. In earlier times, people supposedly travelled a long path before arriving at chess, while modern individuals follow different routes shaped by contemporary interests.
Behind this playful description lies a subtle joke. The author is less interested in the greatness of chess than in the peculiar personalities of those who become devoted to it. Their seriousness, dedication, and occasional eccentricities provide fertile ground for satire.
If you\’re interested in reading this essay, click the link below for a free download.
https://drive.google.com/file/d/1_m3WxRnC9Hy5bqEar7jpPPLxgGP6H2bh/view?usp=sharing
If you\’d like to listen to any essay in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the audiobook.
Contact Us:You can also watch the same video on these social media platforms.
Rumble Facebookعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی علمی و ادبی روایت میں **علی گڑھ میگزین** کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ اس ادارے نے اردو ادب میں تحقیق، تنقید اور تخلیق کے مختلف پہلوؤں کو ہمیشہ نمایاں کیا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی اس کا 1953ء میں شائع ہونے والا ’’طنز و ظرافت نمبر‘‘ ہے، جو اردو مزاحیہ ادب کی تاریخ میں ایک دستاویزی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خصوصی شمارے میں طنز و مزاح کے فن، اس کی فکری بنیادوں، تاریخی ارتقا اور اسلوبیاتی پہلوؤں پر نہایت اہم تحقیقی و تنقیدی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ ان تحریروں کے ذریعے اردو ادب میں ظرافت کی روایت کا ایک جامع اور ہمہ گیر نقشہ سامنے آتا ہے۔
اس شمارے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں محض تفریح یا ہلکے پھلکے مزاح کو پیش نہیں کیا گیا بلکہ طنز و مزاح کو ایک سنجیدہ ادبی صنف کے طور پر سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ رشید احمد صدیقی، فرحت اللہ بیگ، پریم چند اور دیگر اہم ادباء کے فن اور خدمات پر مضامین کے ساتھ ساتھ تخلیقی تحریریں بھی شامل ہیں، جن میں فکری گہرائی اور شگفتگی دونوں پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔ یوں یہ شمارہ نہ صرف مزاحیہ ادب کا تعارف پیش کرتا ہے بلکہ اس کے فنی اور فکری ارتقا کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
اسی شمارے میں شامل مختلف مضامین میں سے رشیداحمد صدیقی مرحوم کامضمون اس سے پہلے آوازِاردوسے پیش کیاجاچکاہے۔ اس کےعلاوہ علی عباس حسینی کے مضمون ’’شطرنج باز‘‘ کا کچھ حصہ بھی اسی پلیٹ فارم سے پیش کیا گیا ہے، جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد تخلیقی و فکری اظہار ہے۔ اس مضمون میں حسینی شطرنج کو محض ایک کھیل نہیں بلکہ انسانی ذہانت، نفسیات اور مزاج کا آئینہ قرار دیتے ہیں۔ وہ اپنے مخصوص شگفتہ اور طنزیہ انداز میں شطرنج اور شطرنج بازوں کی ایسی تصویر کشی کرتے ہیں جس میں مزاح بھی ہے، مبالغہ بھی، باریک نفسیاتی مشاہدہ بھی اور معاشرتی رویوں پر ہلکی پھلکی تنقید بھی شامل ہے۔
علی عباس حسینی اردو ادب کے ممتاز افسانہ نگار، نقاد اور ڈراما نویس تھے۔ ان کی پیدائش 1897ء میں اتر پردیش کے ضلع غازی پور کے ایک گاؤں میں ہوئی۔ ابتدائی و اعلیٰ تعلیم الٰہ آباد اور لکھنؤ میں حاصل کی۔ عملی زندگی میں وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے اور بعد ازاں گورنمنٹ ڈگری کالج، لکھنؤ کے پرنسپل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ افسانہ نگاری میں انہوں نے اپنی الگ شناخت قائم کی اور دیہی زندگی، عام انسان کے جذبات اور سماجی مسائل کو سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کیا۔ ان کا مشہور افسانہ ’’میلہ گھومنی‘‘ اردو افسانے میں اہم مقام رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈرامے، تنقیدی مضامین اور تحقیقی تصانیف بھی لکھیں۔ ان کی کتاب ’’اردو ناول کی تاریخ اور تنقید‘‘ اردو تنقید کے میدان میں ایک اہم حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ یوں وہ ان ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اردو افسانے کو فکری گہرائی اور فنی پختگی عطا کی۔
علی عباس حسینی اپنے مضمون ’’شطرنج باز‘‘ میں شطرنج کو ایک عام کھیل کے بجائے ذہنی صلاحیتوں کا ایک پیچیدہ اور دلچسپ مظہر قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا کے بیشتر کھیل جسمانی محنت یا مالی فائدے سے وابستہ ہوتے ہیں، جبکہ شطرنج مکمل طور پر دماغی ورزش ہے جس میں کامیابی کے لیے دور اندیشی، صبر، تدبر اور گہری سوچ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی بنا پر شطرنج کے ماہر کو ’’شاطر‘‘ کہا جاتا ہے، اور مصنف اس لفظ کے اصل معنی کو واضح کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ کسی فن میں کمال رکھنے والے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے، اگرچہ عام زبان میں یہ دھوکے باز یا چالاک کے معنوں میں بھی رائج ہو چکا ہے۔
مصنف نہایت شگفتہ انداز میں شطرنج تک پہنچنے کے تصور کو بھی بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک شطرنج باز بننے کے لیے بھی مختلف مرحلے درکار ہوتے ہیں۔ وہ طنزیہ طور پر بتاتے ہیں کہ ماضی میں لوگ مختلف مشاغل اور کھیلوں سے گزر کر اس منزل تک پہنچتے تھے، جبکہ آج کے دور میں یہ سفر مختلف قسم کے کھیلوں اور تجربات کے ذریعے طے ہوتا ہے۔ ان تمام باتوں کے پیچھے ان کا مقصد شطرنج کی عظمت نہیں بلکہ شطرنج بازوں کی نفسیات پر ہلکا سا طنز ہے۔
وہ اس بات پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہیں کہ شطرنج بنیادی طور پر ایک سنجیدہ اور پختہ عمر کا کھیل ہے۔ ان کے مطابق یہ کھیل سفید داڑھی، تجربے اور پختگی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس لیے جب نوجوان اسے کھیلتے ہیں تو یہ منظر انہیں غیر فطری محسوس ہوتا ہے۔
شطرنج کے دوران کھلاڑیوں کی حرکات ان کے مضمون کا نہایت دلچسپ حصہ ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ مشکل چال کے وقت کھلاڑی کبھی داڑھی کھجاتا ہے، کبھی سر پر ہاتھ پھیرتا ہے اور کبھی بے اختیار اپنے بالوں یا چوٹی سے الجھ جاتا ہے۔ یوں سوچ کا عمل صرف ذہن تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا جسم اس میں شریک ہو جاتا ہے۔
وہ شطرنج بازوں کو دو مختلف مزاجوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک گروہ پیادوں کو اہمیت دیتا ہے اور بڑے مہروں کی قربانی سے نہیں گھبراتا، جبکہ دوسرا وزیر اور طاقت ور مہروں کی حفاظت کو بنیادی سمجھتا ہے۔ اس تقسیم کے ذریعے مصنف انسانی معاشرتی اور سیاسی رجحانات کی طرف بھی لطیف اشارہ کرتے ہیں۔
شطرنج کی تاریخ اور اس کے آغاز کے حوالے سے روایات کا ذکر بھی مضمون کا حصہ ہے، جنہیں مصنف سنجیدگی کے بجائے مزاح کے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ خاص طور پر شطرنج کی ممکنہ ایجاد کو عورت سے منسوب کرنے والی روایت پر وہ دلچسپ تبصرہ کرتے ہیں اور عورت کی ذہانت و چالاکی کو مزاحیہ پیرائے میں نمایاں کرتے ہیں۔
مصنف شطرنج کے مہروں کو محض اشیاء نہیں بلکہ زندہ کرداروں کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ بادشاہ کمزور مگر مرکزی کردار ہے، وزیر سب سے زیادہ بااختیار محافظ ہے، گھوڑا تیز رفتار جنگجو ہے اور پیادے وفادار سپاہی ہیں۔ یوں شطرنج ایک علامتی سلطنت بن جاتی ہے جو بساط پر حرکت کرتی ہے۔
ان کے نزدیک شطرنج باز عام انسانوں سے مختلف مزاج رکھتے ہیں۔ وہ دنیاوی معاملات سے زیادہ اپنی بساط کی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ بیرونی حالات، سیاسی تبدیلیاں یا سماجی واقعات ان کی توجہ کم ہی حاصل کر پاتے ہیں کیونکہ ان کا اصل مسئلہ اگلی چال ہوتی ہے۔
مرزا صاحب کا کردار اس کیفیت کی عملی مثال ہے۔ وہ چال سوچتے ہوئے دنیا سے بے خبر ہو جاتے ہیں، کبھی شیروانی کے بٹن کھولتے ہیں، کبھی عینک اتار دیتے ہیں اور کبھی گہری سوچ میں ڈوب جاتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مزاحیہ پہلو اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ اپنی بیمار بیٹی کے لیے دوا لینے نکلتے ہیں مگر راستے میں شطرنج کی بازی میں محو ہو کر وقت کا احساس بھول جاتے ہیں۔
آخر میں مصنف شطرنج بازوں کے بارے میں یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ اگرچہ یہ لوگ بعض اوقات حد سے زیادہ انہماک کا شکار ہو جاتے ہیں، لیکن ان میں صبر، برداشت، ضبطِ نفس اور توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت جیسے مثبت اوصاف بھی پائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی محدود دنیا میں ایک خاص سکون اور توازن پیدا کر لیتے ہیں۔
یوں علی عباس حسینی کا یہ مضمون محض شطرنج کے کھیل کی وضاحت نہیں بلکہ انسانی نفسیات، مزاج اور معاشرتی رویوں کا ایک دل چسپ اور بامعنی مطالعہ ہے، جسے طنز و مزاح کی خوبصورت آمیزش نے ایک یادگار ادبی تحریر بنا دیا ہے۔