Nostalgia of Old Delhi: Glorious Past, Painful Decline

Nostalgia of Old Delhi is not just a longing for a lost city—it is a collective memory of a civilisation that once thrived with grace, dignity, and cultural brilliance. Following the 1857 revolt, the very fabric of Delhi’s elite society began to unravel. Families who had lived for centuries with honour and status suddenly faced humiliation, poverty, and social collapse. The royal court disbanded, patronage ended, and estates were confiscated. What remained was nostalgia for a glorious past that could never return.

The Fall of Delhi’s Aristocracy

The Nostalgia of Old Delhi is deeply tied to the decline of its aristocracy. Families who had relied solely on royal stipends or ceremonial privileges could not adapt to the demands of a changing world. Ashraf Subohi, the eminent Urdu writer and journalist, highlighted this collapse in his masterpiece Dilli Ki Chand Ajeeb Hastiyaan. Through vivid portraits, he revealed how men like Khwaja Anees and their descendants lived without skills, professions, or the ability to sustain themselves beyond the fading echoes of Mughal patronage.

Ashraf Subohi and His Literary Legacy

Ashraf Subohi, born in Delhi in 1905 and later settled in Karachi, became one of the finest Urdu sketch writers. His book Dilli Ki Chand Ajeeb Hastiyaan remains a milestone in Urdu literature. By combining humor, pathos, and sharp observation, he preserved the Nostalgia of Old Delhi in a way that captures both its elegance and its decline. His writings do not merely romanticize the past—they record its painful truths, its faded grandeur, and the ordinary people caught between tradition and modernity.

Khwaja Anees: A Symbol of Vanished Glory

Among the characters Subohi sketched, Khwaja Anees stands out as a true emblem of the Nostalgia of Old Delhi. Born into a family once connected to the Mughal court, Anees lived a life of style, courtesy, and charm—but without productive skills or sustainable means of livelihood. His knowledge of literature was limited, his income sources vanished, and the collapse of patronage left his family struggling for survival. Even his attempt to seek employment under the British ended in disillusionment. His story symbolizes the helplessness of an entire generation that failed to adapt to a transformed world.

The Meeting of Two Civilizations in Ruins

One of the most touching moments Subohi described was Anees’s meeting with Mir Khushbu, a visitor from Lucknow. Both elderly men, representing Delhi and Lucknow, lamented the loss of their respective cultural worlds. Their sighs and conversations reflected the shared nostalgia of Old Delhi and Lucknow—the mourning of two great but decaying traditions. This was not just personal grief but a historical tragedy: the end of refined lifestyles, artful manners, and social values that once defined Indo-Muslim culture.

Nostalgia and the Lessons of History

The Nostalgia of Old Delhi carries an important lesson. It shows that civilizations cannot survive on pride and heritage alone. Without adaptation, education, and meaningful work, even the most respected families can fall into decline. Subohi’s sketches remind us that nostalgia should not only be a celebration of the past but also a caution for the future. A glorious history is valuable, but progress depends on embracing change and preparing for new realities.

Conclusion

The Nostalgia of Old Delhi is bittersweet. On the one hand, it celebrates the poetic language, refined manners, and cultural richness of a vanished era. On the other hand, it mourns the painful decline of families who could not cope with political and social upheaval. Through the lives of Khwaja Anees and other characters, Ashraf Subohi immortalized this fading world in literature, ensuring that Old Delhi’s memory remains alive. Even today, the nostalgia of Old Delhi resonates, reminding us of the fragility of human grandeur and the eternal passage of time.

If you’re interested in reading this book, click the link below for a free download.

https://drive.google.com/file/d/18ZBEm-d9PWGRAvf3AK8_4fY1s_7cP1Xv/view?usp=sharing

If you’d like to listen to this book in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the audiobook.

You can also watch the same video on these social media platforms.

غدر کے بعد دہلی کے حالات اس قدر بگڑ گئے کہ صدیوں سے عزت و وقار کے ساتھ جینے والے شرفاء یکایک ذلت و خواری کا شکار ہو گئے۔ دربار ٹوٹا تو سرپرستی ختم ہوئی، جاگیریں ضبط ہوئیں اور وہ خاندان جو محض شاہی وظیفوں پر زندہ تھے، نان شبینہ کے محتاج ہو گئے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس زوال میں ان کی اپنی کوئی کوتاہی نہ تھی؟ اشرف صبوحی نے اپنی مشہور کتاب دلی کی چند عجیب ہستیاں میں انھی سوالات کو کرداروں کی زندگی کے آئینے میں دکھایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ خواجہ انیس جیسے لوگ اور ان کی اولادیں پوری زندگی کوئی ہنر نہ سیکھ سکیں اور محض درباری رواجوں اور خاندانی وقار کے سہارے زندہ رہے، مگر وقت کے دھارے نے سب کچھ بدل ڈالا۔

 ع کیازمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔

اشرف صبوحی، جن کا اصل نام سید ولی اشرف تھا، 11 مئی 1905 کو دہلی میں پیدا ہوئے اور 22 اپریل 1990 کو کراچی میں وفات پائی۔ وہ اردو کے ممتاز ادیب، صحافی، افسانہ نگار، خاکہ نویس اور مترجم تھے۔ دہلی میں انہوں نے ماہنامہ ارمغان جاری کیا اور تقسیم کے بعد لاہور و کراچی میں صحافت اور ادب سے وابستہ رہے۔ ان کی سب سے معروف تصنیف” دلی کی چند عجیب ہستیاں” ہے، جو اردو خاکہ نگاری میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی تحریروں میں دہلی کی تہذیب، زبان کا محاوراتی حسن، طنز و مزاح اور زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتیں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔

“دلی کی چند عجیب ہستیاں” دہلی کے سماجی و ادبی پس منظر کی ایسی دستاویز ہے جس میں اشرف صبوحی نے عام اور غیر معروف کرداروں کے خاکے جیتے جاگتے انداز میں پیش کیے ہیں۔ ان خاکوں میں محض طنز نہیں بلکہ کرب، حسرت اور وقت کے نشیب و فراز بھی موجود ہیں۔ دہلی کی مخصوص بولی اور محاورے ان کرداروں کو زندہ کر دیتے ہیں۔ یہ کتاب دراصل دہلی کی تاریخ اور وہاں کی بگڑتی قدروں کا عکس ہے، جس نے اردو خاکہ نگاری کو ایک نیا رنگ دیا۔

اسی کتاب کے ایک باب “خواجہ انیس” کا اقتباس آوازِاردو نے اپنی ویڈیو میں پیش کیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ نواب رئیس الدولہ، جو کبھی محمد شاہ رنگیلا کے دربار کے امیر تھے، کشمیری بھانڈوں کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ جوانی میں خوش لباسی اور خوش آوازی کے باعث دربار میں عزت پائی، مگر بڑھاپے کے ساتھ سبھا اجڑ گئی اور وہ قلعے سے کنارہ کش ہو کر الگ تھلگ ہو گئے۔ انہی کے پوتے خواجہ انیس تھے۔ بھانڈ کی نسل خواجہ کیسے بنی؟ یہی تو زمانے کے کھیل ہیں۔ سلطنت کے زوال اور غدر کے بعد بے شمار خاندان اجڑ گئے، لیکن جو خواجہ کہلانے میں کامیاب ہو گئے ان کی نجابت پر شبہ نہ کیا جا سکا۔

خواجہ انیس ملنسار، خوش مزاج اور وضع دار شخص تھے، مگر ان کی زندگی پرانے دہلی کی جھلک پیش کرتی تھی۔ محنت مزدوری سے ناآشنا، کھیتی باڑی سے بے خبر، اور تعلیم بس اتنی کہ اردو میں میرا تن کی چار درویش اور فارسی میں ممقیمان تک محدود۔ پچاسی برس کی عمر تک پہنچے تو دانت اور آنت دونوں جواب دے گئے، لیکن غدر کے طوفان میں بھی بچ نکلے۔

غدر کے بعد نئے چراغ تو جلے مگر پرانی سرپرستی ختم ہو چکی تھی۔ قلعے سے تیل کون لاتا؟ خواجہ انیس کی آمدنی کے تمام ذرائع بند ہو گئے۔ پرانی پونجی خرچ ہو رہی تھی، مگر بیٹیوں کی شادیاں، بہوؤں کے تقاضے، دامادوں کی نکمّے پن اور بیٹوں کی زن مریدی نے گھر کا حال ابتر کر دیا۔ جاگیر یا املاک کچھ تھی نہیں، بس کشمیری دروازے کی ایک مسجد کی متولیّت ہاتھ آ گئی تھی، جس کی آمدنی بمشکل پچاس ساٹھ روپے ماہوار تھی۔ اس پر گزارا کرنا مشکل تھا، کبھی دبے خزانے سے کچھ نکالتے اور زندگی کاٹتے۔

جب حالت ناقابلِ برداشت ہو گئی تو بیگم نے صلاح دی کہ انگریز دربار میں ملازمت کی کوشش کی جائے۔ اگلے دن خواجہ صاحب نک سک سے تیار ہو کر پالکی میں نکلے، مگر شام تک گھوم پھر کر گھر لوٹے تو نوکری پر لعنت بھیج دی۔

اسی دوران ان کی ملاقات لکھنؤ سے آئے میر خوشبو سے ہوئی۔ دونوں بزرگ اپنی اپنی بیتی دہلی اور لکھنؤ کو یاد کر کے دل بھر کے آہیں بھرتے رہے۔ یہ ملاقات دراصل دو اجڑی ہوئی تہذیبوں کا نوحہ تھی۔

یوں خواجہ انیس کی زندگی اس عہد کے ان خاندانوں کی نمائندگی کرتی ہے جو ماضی کی عظمت کے وارث تو تھے لیکن حال کے تقاضوں کو سمجھ نہ سکے اور زوال و کسمپرسی ان کا مقدر بن گئی۔ اشرف صبوحی نے اس کردار کے ذریعے دراصل اس تہذیب کے بکھرتے نقوش اور شرفاء کے زوال کی داستان محفوظ کر دی۔

Leave a Comment