The Fall of Delhi was one of the most tragic and devastating events in Indian history. The Fall of Delhi, vividly detailed in William Dalrymple’s book The Last Mughal, captures the destruction of a once-thriving city that served as the heart of the Mughal Empire. The book, drawing from historical records, letters by renowned poet Mirza Ghalib, and British accounts, paints a grim picture of The Fall of Delhi and its consequences.
The Fall of Delhi and Its Aftermath
The Fall of Delhi was not just a military defeat; it was a deliberate attempt to erase the city’s identity. Following the Indian Rebellion of 1857, British authorities sought to punish the city and its inhabitants severely. Mirza Ghalib, one of the most famous poets of that era, wrote letters describing the heart-wrenching destruction of the city. He stated that entire markets like Chandni Chowk, Urdu Bazaar, and Khanam’s Bazaar had vanished, leaving no trace behind. People could not even recognize where their homes and shops once stood. While food became extraordinarily expensive, human life became cheap, with mass executions taking place regularly. The Fall of Delhi left an everlasting impact on its people and its culture.
The British Plan to Erase Delhi
The British government had an initial plan to completely obliterate Delhi from the map as a form of collective punishment. The Lahore Chronicle documented that Lord Palmerston suggested that Delhi should be entirely removed, and every structure, regardless of its historical or artistic significance, should be demolished. Governor-General Lord Canning was in favor of this idea, but John Lawrence, the newly appointed administrator of Delhi, opposed it. Having played a significant role in capturing Delhi, Lawrence had enough influence to prevent complete destruction. One of his first acts was exiling Theo Metcalfe, a British officer who was an ardent supporter of mass executions and destruction.
Mirza Ghalib’s Witness to Tragedy
Mirza Ghalib’s letters serve as invaluable records of the devastation caused by The Fall of Delhi. He described how Raj Ghat’s entrance was turned into rubble, roads were widened by demolishing historic gates, and entire neighborhoods like Punjabi Katra and Mubarak Begum’s Haveli were wiped out. Delhi’s magnificent palaces were systematically torn down, including those of the Nawabs of Jhajjar, Bahadurgarh, Farrukhnagar, and Ballabhgarh. Even the grand Shalimar Bagh, where Aurangzeb was crowned, was auctioned off as farmland.
The Red Fort: A Symbol of Mughal Glory Reduced to Ruins
The Fall of Delhi also led to the systematic destruction of the Red Fort, once the residence of Mughal emperors. John Lawrence tried to save it, but the British authorities were determined to dismantle its grandeur. The process began in November 1857, and by March 1859, most of the fort’s architectural marvels, including Hayat Bakhsh Bagh and the Diwan-e-Khas, were gone. The British repurposed the remaining structures—Nakkar Khana became military quarters, Diwan-e-Aam turned into an officer’s lounge, and royal chambers became canteens and barracks. The Lahore Gate was renamed “Victoria Gate” in honor of Queen Victoria. The Fall of Delhi resulted in the irreversible loss of these cultural landmarks.
The Return of Delhi’s People and the Loss of Heritage
One of the lesser-known aspects of The Fall of Delhi was the forced displacement of its citizens. Initially, Hindus were allowed to return, but Muslims were forbidden from re-entering the city for nearly two years. When they were finally permitted to return, many found their homes confiscated and auctioned off to new owners, mostly Hindu businessmen. Prominent mosques like Fatehpuri Masjid and Zinat-ul-Masajid were sold off, with one being converted into a bakery.
The cultural and intellectual destruction of Delhi was immense. Libraries were ransacked, manuscripts were lost, and traditional schools were shut down. The largest Islamic seminary, Madrasa Rahimiya, was sold and turned into a warehouse. With the Mughal elite either executed or impoverished, many former nobles resorted to menial jobs or lived in destitution. Ghalib himself wrote in despair, stating that Delhi was no longer the city he had lived in for fifty-one years—it had become a mere military encampment. The Fall of Delhi had permanently altered the city’s demographics and identity.
A Lost Legacy
The Fall of Delhi marked not only the end of the Mughal Empire but also the erasure of a cultural and historical legacy. The British administration sought to wipe out Delhi’s Islamic and Mughal identity, replacing it with a colonial presence. This transformation of Delhi from a grand imperial capital to a devastated ruin is a painful chapter in history, one that should not be forgotten.
The destruction of Delhi was more than just the physical demolition of buildings; it was an attack on the very soul of the city. Today, remnants of the old Mughal city stand as silent witnesses to its tragic past. Understanding and remembering The Fall of Delhi is essential in preserving the memory of a civilization that once flourished but was mercilessly torn apart.
If you want read this book, then click following link.
https://drive.google.com/file/d/1_V6gR8As2LcB2UebWdidHa092Sbjc56Q/view?usp=sharing
Here is the link to watch this video on Facebook.
https://www.facebook.com/share/v/12A73UbJzFz/
Here is the link to watch this video on Febspot.
Febspot: https://www.febspot.com/my/videos/
Here is the link to watch this video on Rumble.
Rumble: https://rumble.com/v5kxfp1-after-the-king-by-wahara-umbakar..html
Please contact if you don’t want to listen to this book anymore.
William Dalrymple
کی کتاب
The Last Mughal
مغل بادشاہت کےزوال کی کہانی ہے۔اس کےترجمے پر وہاراامباکر کانام لکھا ہے، مگراس نام کےساتھ یہ کتاب مجھے کہیں نہیں ملی۔ “مکالمہ “نامی بلاگنگ سائٹ پر اس نام کے ساتھ اس موضوع پر مضامین شائع ہوئے ہیں۔ بہرحال اس ویڈیومیں اس کتاب کےاردوترجمے کا اقتباس پڑھ کرسنایا جارہاہے،جس میں غالب کےخطوط اورانگریزمؤرخین کےحوالےسے دلّی کےاجڑنےکانقشہ کھینچاگیاہے۔جب اس وقت کےایک خوب صورت ،ترقی یافتہ شہراوردارالخلافہ کواجاڑدیاگیا۔اس ویڈیومیں جواقتباس پڑھاگیا، اس کا خلاصہ یہ ہے
غالب لکھتے ہیں۔
“لگتا ہے پورا شہر مسمار کیا جارہا ہے۔ خاص بازار ، اردو بازار اور خانم کا بازار غائب ہو چکے ہیں۔ یہ بھی نہیں پتا لگتا کہ وہ کہاں تھے۔ گھر والے اور دکاندار اشارہ کر کے بھی نہیں بتا سکتے کہ ان کی دکان اور گھر کدھر تھے۔ کھانا مہنگا ہے اور موت سستی “۔
ان کا لکھا یہ پیرا گراف ایک منصوبے پر ہونے والے عملدرآمد کا بتا رہا ہے۔ اصل پلان تو زیادہ بڑا تھا اور لاہور کرونیکل میں شائع ہوا تھا۔ اس میں لکھاتھاکہ “سزا کے طور پر دہلی کا نام و نشان مٹا دیا جائے”۔ اس پلان کے بہت سپورٹر تھے۔ ہندوستان میں بھی اور لندن میں بھی۔ لارڈ پامر سٹون نے کہا کہ دہلی کو نقشے سے ہی ختم کر دیا جائے اور ہر عمارت کو، خواہ کتنی ہی اہم ہو یا کتنی ہی آرٹسٹک، بلا تمیز ختم کر دیا جائے۔ گورنر جنرل کیننگ اس تجویز کی حمایت میں تھے لیکن جو شخص انہیں اس سے منع رکھنے میں کامیاب رہے، وہ جان لارنس تھے۔
جان لارنس کو لاہور سے دہلی فروری 1858 کو ٹرانسفر کیا گیا۔ وہ اس سے پہلے پنجاب کے چیف کمشنر رہے تھے اور دہلی کو فتح کرنے میں بڑا ہاتھ تھا، اس وجہ سے ان کی رائے اثر رکھتی تھی۔ وہ قتل عام اور دہلی میں پھیلائی جانے والے تباہی کے مخالف تھے۔ سب سے پہلا کام انہوں نے یہ کیا کہ قتل عام کے پرجوش حامی اور اپنے پیشرو تھیو میشکاف کو جلاوطن کر دیا اور جبری رخصت پر انگلستان بھیجوا دیا۔ 2 مارچ کو تھیو ہمیشہ کے لئے ہندوستان چھوڑ گئے۔
اپریل کو لارنس نے عام معافی دینے کی سفارش کی۔ غیر متوقع طور پر اس میں انہیں اپنے حامی بنجمن ڈسرائیلی کی صورت میں مل گئے (جو بعد میں برطانوی وزیر اعظم بنے جنہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے وہ سنا ہے اور وہ پڑھا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ مسیح کے نام پر ہم مسیح کے بجائے مولک کا طریقہ اپنا رہے ہیں”۔ (مولک کنعان میں دیوتا تھا جس کے آگے بچوں کو بھینٹ چڑھایا جاتا تھا)۔
کم نومبر 1858 کو ملکہ وکٹوریا کے جاری کردہ فرمان سے یہ سرکاری پالیسی بن گئی۔ اس کے ساتھ Act for Better Government of India عمل میں آگیا۔ تاج برطانیہ نے ہندوستان کی حکومتی ذمہ داری ایسٹ انڈیا کمپنی سے ختم کر کے خود اپنے پاس لے لی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی چوبیس ہزار کی ملٹری فورس برٹش آرمی کا حصہ بن گئی۔
غداری کے مقدمے اور پھانسیوں کے سلسلے ختم ہوئے۔ ہندوستان اپنے شئیر ہولڈرز کے لئے کام کرنے والی ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی حکمرانی کے بجائے باضابطہ کالونیل حکومت میں آ گیا۔
دہلی کو مسمار کئے جانے پر بحث چلتی رہی۔ کیننگ نے دہلی کی دیواروں اور دفاعی حصار کو مسمار کرنے کے احکامات جاری کر دئے تھے لیکن لارنس نے انہیں رکوا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے میل لمبی دیوار گرانے کے لئے ہارود دستیاب نہیں۔ 1859 کے آخر تک کچھ حصہ گرانے پر اتفاق ہو گیا۔ 1863 میں چاندنی چوک سے ضریبہ تک مسماری کا آپریشن جاری رہا جو اس کے بعد ترک کر دیا گیا۔ اس دوران دہلی کا بہت سے حصہ گر چکا تھا جس کا ذکر غالب اپنے خطوط میں اداسی سے کرتے رہے۔ راج گھاٹ جو دریائے جمنا کے پاس مشرق میں تھا) سے جامع مسجد کے درمیان بلا مبالغہ صرف اینٹوں کا ڈھیر تھا۔ غالب کے خط کا اقتباس۔
راج گھاٹ کے دروازے کو گرا دیا گیا ہے۔ ملبے کا ڈھیر ہے۔ چوڑی سڑک بنانے کے لئے کلکتہ دروازے اور کابل دروازے کے درمیان زمین ہموار کی گئی ہے۔ پنجابی کٹہرا، دھوبی دارا، رام جی گنج، سادات خان کا کٹہرا، مبارک بیگم کی حویلی (جو اوکٹر لونی کی بیوہ تھیں، صاحب رام کی حویلی اور باغ ۔ اب کچھ بھی باقی نہیں رہا۔
غالب کے دوسرے خطوط میں اکبر آبادی مسجد، کشمیری کٹہرا مسجد ، شیخ کلیم اللہ جہان آبادی کے مزار، مولوی باقر کے امام باڑہ، بلقی بیگم کے محلے، ضریبہ کے دروازے کے منہدم ہونے کا ذکر ہے۔ شہر کے چار بڑے شاندار محل مکمل طور پر مسمار کئے گئے۔ جس میں جھاجر کے نواب کی حویلی، بہادر گڑھ اور فرخ گڑھ کے نواب اور بلب گڑھ کے راجہ کی حویلی تھی۔ شالیمار باغ، جہاں اور نگزیب کی تاجپوشی ہوئی تھی، کو زرعی اراضی کے طور پر نیلام کر دیا گیا۔ جہاں مغل عمارتیں نہیں گرائی گئیں، ان کے نام بدل دئے گئے۔ بیگم باغ اب کو ئنز گارڈن ہو گیا۔
لارنس نے کوشش کی تھی کہ لال قلعے کو بچایا جا سکے لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ انہوں نے جامعہ مسجد اور محل کی دیواروں کو بچا لیا لیکن لال قلعے کا اسی فیصد حصہ ڈھا دیا گیا۔ ہئیریٹ ٹیلر اس سب پر رنجیدہ تھیں۔ انہوں نے دہلی کی دیوانِ عام کے اوپر سے تصویر بنائی ہے جو مغلیہ دہلی کی آخری تصویر ہے۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے، دہلی میں موتکے اوپر سے تصویر بنائی ہے جو مغلیہ دہلی کی آخری تصویر ہے۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے، “ویلی میں موت کا ساتا تھا۔ خالی گھر اور ہو کا عالم۔ جیسے کسی بدن سے روح نکل گئی ہو۔
لال قلعے کو نومبر 1857 سے مسمار کئے جانا شروع ہوا۔ سب سے پہلے شاہی تمام سے یہ کام شروع کیا۔ آر کینکچر کے مورخ جیمز فرگوسن لکھتے ہیں کہ یہ قلعہ یورپ کے کسی بھی قلعے سے دگنا ہو گا۔ مارچ 1859 تک یہ جاری تھا۔ چھوٹا رنگ محل، حیات بخش پانی مہتاب باغ ختم ہوئے۔ دریائے جمنا کے کنارے اس کا میں فیصد حصہ بچ گیا اور یہ بچت اس لئے ہوئی کہ اس کو برٹش فوجیوں نے اپنا آفس اور میں بنا لیا تھا۔
کنید اور سنگ مرمر کی فلنگ کو اتار لیا گیا اور مال غنیمت میں داخل کر دیا۔ اس میں شاہ جہان کا کروایا گیا پر چین کاری کا شاندار کام بھی تھا جو ان کے تخت طاوس کے پیچھے تھا۔ نقار خانہ، جہاں اصفہان یا قسطنطنیہ سے سفیروں جیسے اہم مہمانوں کی آمد پر ہاہے اور ڈھول بجائے جاتے تھے، برٹش سٹاف سارجنٹ کے کوارٹر بن گیا۔ دیوان عام آفیسرز لاونج میں تبدیل ہونہ شاہی خوابگاہ کینٹین بن گئی، رنگ محل آفیسرز میں میں بدل گیا۔ ممتاز محل کو ملٹری خیل بنا دیا گیا۔ لاہور دروازے کا نام وکتور یا گیٹ رکھ دیا گیا۔ ظفر محل، جو تیر تا پویلین تھا، افسروں کے لئے سوئمنگ پول۔ جب کہ حیات بخش باغ کے جیسے ٹوائلٹ ہے۔
بغاوت کے ایک سال بعد پہلے شہر میں دہلی کے ہندوؤں کو واپس آنے کی اجازت آہستہ آہستہ ملنے گئی۔ دسمبر 1859
میں دہلی کے مسلمانوں کی طرف سے ملکہ وکٹوریا کو درخواست کی گئی کہ انہیں بھی واپس آنے دیا جائے، وہ مشکل میں ہیں اور ملکہ سے رقم کی توقع کرتے ہیں کہ وہ انہیں معاف کریں گی اور واپس دہلی جانے دیں گی۔ ان کے پاس نہ سر پر چت ہے اور نہ سردی سے بچنے کا انتظام۔ یہ اجازت مل گئی، لیکن جو جنیا برطانیہ سے اپنی وفاداری ثابت نہیں کر سکے، ان کے گھر ضبط کر لیے گئے۔ مسلمانوں کے خلاف تعصب کی صورتحال اتنی بری تھی کہ برٹش پریس میں آوازیں اٹھنے لگیں۔ جون 1860 میں موفصلاحیت میں اس پر لکھا مضمون ہے، ہمارا قصہ، آخر کب تک ؟”۔
ضبط شدہ جائیدادیں نیلام ہوئیں۔ ان کو خریدنے والے زیادہ تر ہندو کھشتریہ اور حین بیکار تھے، جیسا کہ انامل یا رام جی داس یا مہیش داس۔ چنا مل نے فتح پوری مسجد بھی خرید لی جبکہ ایک ہندو نانبائی نے زینت المساجد خریدی۔ مغل دور کی اشرافیہ اب یا تو غربت میں تھی یا کچھ لوگوں کو سکول ٹیچر یا نیوز جیسے کام مل گئے تھے۔
مرزا غالب نے جنوری 1862 میں دوست کو خط لکھا ہے۔ یہ دو ولی نہیں جہاں تم پیدا ہوئے تھے، سکول گئے تھے، جہاں تم میرے گھر آیا کرتے تھے۔ یہ وہ دلی نہیں جہاں میں نے اکاون برس گزارے۔ یہ ایک کیمپ ہے۔ مسلمان یا تو ہنر مند ہیں یا برٹش کے ملازم باقی سب ہندو ہیں۔ شاہی خاندان کے مرد اب برٹش سرکار سے پانچ روپے مہینے وصول کرتے ہیں۔ شاہی محل کی خواتین اگر زیادہ عمر کی ہیں تو دلالہ ہیں، کم عمر کی ہیں تو طوائف” (برنش سرکار نے نئے قوانین کے تحت عام معافی کے علاوہ شاہی خاندان کے افراد کی تاحیات پانی روپے مبینہ پنشن مقرر کر دی تھی)۔
مغلوں کے خاتمہ کے ساتھ ہی دہلی کے خوب اور کلچر کا خاتمہ ہولہ لائبریریاں تباہ ہوئیں۔ مسودے ضائع ہو گئے۔ مدارس بند کر دئے گئے۔ سب سے بڑی درسگاہ مدرسہ رحیمیہ رام کی داس نے نیلام میں خریدی اور اسے گودام بنا لیا۔