Punjab Archives: Records Management Glory and Painful Neglect

Punjab Archives are not merely an institution; they are the living memory of South Asia’s rich and turbulent past. Housing millions of manuscripts, files, and rare books, the archives stand at the crossroads of history, culture, and identity. While they represent records management glory established a century ago, they also expose painful neglect that continues to plague our bureaucratic mindset.

The Testimony of Developed Nations

The history of developed nations teaches us that knowledge preservation is the key to progress. They safeguard manuscripts, documents, and books not as “old papers” but as part of their collective identity. They build museums and research centers to ensure that future generations remain connected to their past. In stark contrast, Pakistan has repeatedly ignored its priceless heritage, weakening its cultural continuity.

Khalid Masood Khan’s Insightful Column

This reality was powerfully highlighted by Khalid Masood Khan in his two-part column “1924 to 2024: The Story of Salaried People”, published in Daily Dunya on 7 and 9 March 2024. A poet, humorist, and celebrated columnist from Multan’s literary family, Khalid Masood Khan left behind a promising corporate career to devote himself to writing. His column sheds light on the treasures preserved at the Punjab Archives and exposes the hollow formalities of officialdom that overshadow genuine preservation efforts.

AwazeUrdu featured this column in its video “Punjab Archives”, bringing his words to a wider audience.

From Ventura’s Residence to the Civil Secretariat

As Khalid Masood Khan describes, entering the Punjab Civil Secretariat in Lahore, one cannot miss the single-storey central building. Originally the residence of French General Jean-Baptiste Ventura, who served Maharaja Ranjit Singh, the building later became the British Residency and eventually the Chief Secretary’s office. Over time, haphazard alterations damaged its beauty until restoration revived its original charm.

Behind it stands the octagonal structure known as Anarkali’s Tomb, connected to the legend of Emperor Akbar entombing Anarkali for her love of Prince Salim. Today, it is more than a tomb—it is the very heart of the Punjab Archives.

The Treasures of Punjab Archives

Inside these walls lies an intellectual treasure:

* Around seven million documents and 70,000 rare books.

* Files from the Mughal period (1629–1857), the Sikh era (1799–1849), and the British Raj.

* Nearly 2,500 files from the 1857 War of Independence, offering insights into elite families and political movements.

* Records of the First Afghan War, the 1848 Multan rebellion, trade relations with Central Asia and Nepal, and correspondence with Afghanistan, Iran, Kashmir, and the Middle East.

* A collection of 19th-century newspapers unparalleled across the subcontinent.

This treasure trove exists because in 1924, Lieutenant Colonel Herbert Leonard Offley Garrett, a retired British officer, founded the archives with dedication and discipline. His records management methods ensured the survival of priceless heritage that we might otherwise have lost.

Glory vs. Neglect

Khalid Masood Khan sharply contrasts this legacy with Pakistan’s attitude after independence. While the British preserved Mohenjo-daro artefacts and Gandhara relics, Pakistan could not even build new museums properly. The Punjab Archives survived not because of us, but despite us.

In 2024, on its 100th anniversary, the Punjab government staged a “reopening” of the archives. Though celebrated as a milestone, it was misleading—the institution had been continuously functioning since 1924. A marble plaque was unveiled bearing the names of the Chief Minister, Chief Secretary, and other officials. To Khan, this was a reflection of our bureaucracy: valuing ceremonial inaugurations over meaningful preservation.

Lessons for the Future

Punjab Archives remind us of two truths:

1. Nations progress by safeguarding their intellectual heritage.

2. Neglecting archives is equal to erasing identity.

Modern records management must go beyond ceremonies. Digitization, controlled preservation environments, research facilities, and international collaborations are vital. Pakistan must recognize that archives are not dead files—they are living testimony to who we were, who we are, and who we aspire to be.

Conclusion

Punjab Archives embody both glory and painful neglect. Thanks to one British officer’s dedication, Lahore still houses a century-old institution of global importance. Yet, our bureaucratic culture reduces its value to plaques and inaugurations. Through the powerful voice of Khalid Masood Khan in Daily Dunya, we are reminded that heritage is not preserved by rituals but by vision and responsibility. If Pakistan wishes to move forward, it must reclaim the true spirit of records management and treat its archives as the priceless foundation of national identity.

By clicking the given links, you can read this column online.

If you’d like to listen to any Urdu essay in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the audiobook.

You can also watch the same video on these social media platforms.

ترقی یافتہ قوموں کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ وہ اپنے علمی اور ثقافتی سرمائے کو محفوظ رکھنے کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔ ان کے نزدیک قدیم دستاویزات، مخطوطات اور کتب محض پرانے کاغذات نہیں بلکہ ان کے اجتماعی شعور اور قومی شناخت کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انہیں نہ صرف بہترین انداز میں محفوظ کرتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے تحقیقی مراکز اور عجائب گھروں کی صورت میں پیش بھی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنی بیش قیمت یادگاروں اور علمی سرمایہ کو نظر انداز کر کے تاریخ کے تسلسل کو خود اپنے ہاتھوں سے مجروح کرتے رہے ہیں۔

اسی تناظر میں جناب خالد مسعود خان کا مضمون بعنوان “1924ء تا 2024ء: نوکری پیشہ لوگوں کی داستان” روزنامہ دنیا میں 7 اور 9 مارچ 2024ء کو دو حصوں میں شائع ہوا۔ اس مضمون میں انہوں نے پنجاب سول سیکرٹریٹ لاہور اور انارکلی کے مقبرے میں محفوظ تاریخی ورثے اور دستاویزات پر روشنی ڈالی ہے۔

خالد مسعود خان ملتان کے ایک علمی و ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ادب اور شاعری کی محبت انہیں ورثے میں ملی۔ ابتدائی تعلیم میونسپل پرائمری اسکول چوک شہیداں سے حاصل کی اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے گولڈ میڈل کے ساتھ ایم بی اے کیا۔ تیرہ برس نوکری کرنے کے بعد اسے خیرباد کہہ کر لکھنے پڑھنے کو مستقل پیشہ بنایا۔ مزاحیہ شاعری سے ادبی سفر کا آغاز کیا اور پھر کالم نگاری میں اپنی بے لاگ تحریروں کے باعث شہرت پائی۔ روزنامہ خبریں، اوصاف، ایکسپریس، جنگ اور 92 نیوز کے بعد طویل عرصہ سے روزنامہ دنیا کے مستقل کالم نگار ہیں۔

ان کا زیرِ نظر مضمون آوازِاردونے اپنی ویڈیو”پنجاب آرکائیوز” میں پڑھ کرسنایاہے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ 

لاہور کے سول سیکرٹریٹ میں داخل ہوتے ہی سب سے نمایاں عمارت وہ سنگل اسٹوری مرکزی عمارت ہے جسے انگریز دور میں سرکاری دفاتر کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ عمارت دراصل فرانسیسی جنرل جین بیپٹسٹ وینتورا کی رہائش گاہ رہی، جو رنجیت سنگھ کی فوج میں خدمات انجام دیتا تھا۔ بعد میں برطانوی ریذیڈنسی کے طور پر استعمال ہوئی اور پھر چیف سیکرٹری پنجاب کے دفتر میں تبدیل کر دی گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں بے ہنگم اضافے کیے گئے لیکن بعد ازاں اس کے اصل حسن کو بحال کر دیا گیا۔

اس دفتر کے عقب میں وہ ہشت پہلو عمارت ہے جو انارکلی کے مبینہ مقبرے کے نام سے مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اکبر اعظم نے شہزادہ سلیم (جہانگیر) کے ساتھ عشق کے الزام میں انارکلی کو زندہ دیوار میں چنوا دیا تھا۔ آج یہ عمارت صرف ایک مقبرہ نہیں بلکہ پنجاب آرکائیوز کا مرکز ہے، جہاں لاکھوں قیمتی دستاویزات محفوظ ہیں۔ اندازاً سات ملین کے لگ بھگ کاغذات، ستر ہزار نایاب کتب، مغل دور (1629ء تا 1857ء) کی فائلیں، سکھ عہد (1799ء تا 1849ء) کے ریکارڈ، اور انگریز دور کے ہزاروں دستاویزات یہاں محفوظ ہیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی سے متعلق اڑھائی ہزار کے قریب فائلیں بھی یہیں موجود ہیں جن سے اشرافیہ اور حکمران خاندانوں کی سرگرمیوں پر روشنی پڑتی ہے۔

یہ محفوظ خانہ 1924ء میں قائم ہوا، جب فوج سے سبک دوش لیفٹیننٹ کرنل ہربرٹ لیونارڈ اوفلے گیرٹ کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ انہوں نے نہایت محنت اور اہتمام سے اس آرکائیوز کی بنیاد رکھی، جس میں مغلوں، سکھوں اور انگریزوں کے ادوار کی نادر دستاویزات محفوظ کی گئیں۔ یہ ایک ایسے نوکر شاہ کی لگن اور محنت کا نتیجہ تھا کہ آج بھی یہ علمی خزانہ قائم ہے۔

ان مخطوطات میں سکھ دربار کا سرکاری اخبار (1835ء تا 1849ء)، پہلی افغان جنگ (1827ء تا 1842ء) کی تفصیلات، ملتان کی 1848ء کی شورش کا ریکارڈ، وسطی ایشیا اور نیپال سے تجارتی تعلقات کی دستاویزات، لدھیانہ ایجنسی کے کاغذات، حتیٰ کہ افغانستان، ایران، کشمیر اور مشرقِ وسطیٰ کی بعض ریاستوں سے تعلقات پر مشتمل خط و کتابت بھی شامل ہے۔ یہاں انیسویں صدی کے قدیم اخبارات کا ایک ایسا ذخیرہ بھی ہے جو پورے برصغیر میں اور کہیں نہیں ملتا۔

خالد مسعود خان لکھتے ہیں کہ یہ سب کچھ انگریز سرکار نے ترتیب دے کر محفوظ کیا، ورنہ ہم اپنے ورثے کو ضائع کر دیتے۔ گندھارا اور موہنجودڑو کے نوادرات بھی انگریزوں نے محفوظ کیے جو آج ہمارے پاس ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان بننے کے بعد ہم کوئی نیا عجائب گھر بھی ڈھنگ سے نہ بنا سکے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس میوزیم کے قیام کو سو سال مکمل ہونے پر حال ہی میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس کا “دوبارہ افتتاح” کیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ میوزیم 1924ء سے قائم ہے۔ سنگ مرمر کی تختی پر وزیراعلیٰ کے ساتھ چیف سیکرٹری اور دیگر افسروں کے نام درج کر دیے گئے۔ مصنف کے نزدیک یہ طرزِ عمل ہماری نوکری پیشہ بیوروکریسی کا عکس ہے جو اصل کام کے بجائے رسمی کارروائیوں کو ہی کارکردگی سمجھتی ہے۔

یوں یہ مضمون نہ صرف پنجاب آرکائیوز کی تاریخ اور اس کے قیمتی ذخیرے پر روشنی ڈالتا ہے بلکہ ایک تلخ حقیقت بھی عیاں کرتا ہے: قومیں اپنی تاریخ کی حفاظت سے ترقی پاتی ہیں، اور ہم نے اپنی تاریخ کے ساتھ بے اعتنائی کو شعار بنا لیا ہے۔ ایک صدی پہلے ایک انگریز افسر کی محنت سے قائم ہونے والا ادارہ آج بھی سلامت ہے، مگر ہمارے عہد کے سرکاری افسروں نے اسے صرف ’’دوبارہ افتتاح‘‘ کر کے اپنی نوکری پیشگی کا ثبوت فراہم کیا۔

Leave a Comment