True and False Love are not merely emotional states; they are two opposite paths that define a person’s moral and spiritual destiny. Love is the most universal feeling in human nature—one that connects hearts, inspires sacrifice, and transforms the ordinary into the divine. But when love is ruled by selfish desires, it can become the very cause of downfall.
In Islam, love is viewed not as a fleeting emotion, but as a reflection of the soul’s orientation. The noble scholar Imam Ibn al-Qayyim al-Jawziyyah explored this dual nature of love in his timeless book Rawdat al-Muhibbin wa Nuzhat al-Mushtaqin (“The Garden of the Lovers and the Excursion of the Passionate”). His insight into true and false love remains one of the most illuminating discussions in Islamic spirituality.
True Love — The Path Toward the Divine
According to Ibn al-Qayyim, true love is the love of the Creator—the kind of affection that purifies the soul, softens the heart, and draws a person closer to Allah. True love transcends selfish motives. It is love that does not fade in pain, betrayal, or trial. Instead, it finds peace in submission to the will of the Beloved.
He wrote that when love is directed toward Allah and His Messenger ﷺ, it becomes a source of light and tranquility. Such love frees one from the slavery of ego and desire. In true love, the lover seeks nothing but the pleasure and nearness of the Beloved. It is a love that endures even when tested by hardship, echoing the saying: “The truest love is the one that remains firm even when the beloved causes pain.”
False Love — The Illusion of Desire
By contrast, false love arises when the heart becomes attached to worldly beauty, pleasure, or benefit. It is a temporary fire that burns brightly but soon turns to ash. Ibn al-Qayyim warns that love born of lust or self-interest is an illusion—it enslaves the soul instead of freeing it.
He explains that false love dies when desire is denied, while true love grows stronger through sacrifice. The distinction between true and false love lies in intention: if love seeks the beloved’s benefit, it is pure; if it seeks personal satisfaction, it is flawed.
A poet once described this paradox beautifully:
“Your love placed me where I cannot move forward or backward.
If you humiliate me, I accept it with pride—because it is from you.”
Such expressions illustrate how true love absorbs both pain and joy as part of the same divine test.
The Psychology and Spirit of Love
Ibn al-Qayyim saw love as both a psychological and spiritual phenomenon. The heart naturally loves what resembles it, just as similar souls are drawn together. He cited the saying of Prophet Muhammad ﷺ:
“Souls are like gathered armies; those who recognize one another unite, and those who differ part ways.”
In this view, true and false love are not only moral choices but reflections of the inner harmony between souls. When two hearts share similar virtues, their bond grows stronger; when they differ in purpose, their connection weakens.
Translation and Legacy
The Arabic book Rawdat al-Muhibbin wa Nuzhat al-Mushtaqin was later translated into Urdu by Ibn Sarwar Muhammad Owais under the title “Mohabbat ki Haqiqat aur Uske Taqaze.” This translation beautifully captures Ibn al-Qayyim’s deep insight into the reality of love—its causes, types, and effects on the soul.
Through poetic examples and wisdom from early scholars, Ibn al-Qayyim demonstrates that love can be either a ladder to paradise or a pit to ruin—depending on whether it is genuine or not.
Lessons for the Modern Heart
In a world dominated by emotional confusion, Ibn al-Qayyim’s distinction between true and false love offers clarity and comfort. True love elevates, heals, and liberates. False love consumes, deceives, and imprisons.
If you’re interested in reading this book, click the link below for a free download.
https://drive.google.com/file/d/1EYj2kx-Zi63LHrDRAE1KT23D0MhKv0pD/view?usp=sharing
If you’d like to listen to this book in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the audiobook.
You can also watch the same video on these social media platforms.
To love truly is to love with purity of heart, sincerity of purpose, and awareness of divine presence. And when love aligns with faith, even pain becomes a form of devotion.
عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی — امام ابن القیمؒ کی بصیرت میں محبت کی حقیقت
محبت ایک آفاقی جذبہ ہے، جو انسان کی فطرت میں گہرائی سے پیوست ہے۔ یہی وہ احساس ہے جو دلوں کو جوڑتا، روحوں کو ہم آہنگ کرتا اور انسان کو اپنی ذات کی حدود سے نکال کر کسی دوسرے کے لیے جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ محبت کا یہ جذبہ اگر بلند اور بےغرض ہو تو انسان کو قربِ الٰہی تک پہنچا دیتا ہے، اور اگر یہ خواہشِ نفس، شہوت یا مفاد کے تابع ہو تو اسی جذبے سے تباہی اور پستی جنم لیتی ہے۔ اسی لیے اہلِ معرفت نے محبت کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا ہے — عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی۔
عشقِ حقیقی وہ ہے جو خالقِ کائنات سے وابستہ ہو، جس میں بندہ اپنے رب کی رضا، اس کے قرب اور اس کی محبت کو اپنا مقصود بناتا ہے۔ یہ عشق انسان کو خودی سے بے نیاز کر دیتا ہے، اور اس کی روح کو نورِ ایمان سے منور کرتا ہے۔ دوسری طرف عشقِ مجازی وہ ہے جو مخلوق کے ساتھ تعلق پر مبنی ہے — یہ کبھی جسمانی کشش سے جنم لیتا ہے اور کبھی کسی شخصیت یا صورت کی دلکشی سے۔ تاہم امام ابن القیمؒ کے نزدیک محبت خواہ حقیقی ہو یا مجازی، دونوں میں بےغرض اور خودغرض پہلو موجود ہوتے ہیں۔ جو محبت صرف اپنی لذت یا فائدے کے لیے ہو، وہ ناقص ہے، اور جو محبوب کے لیے اپنی ذات کو بھلا دے، وہی محبت خالص کہلاتی ہے۔
اسی موضوع پر امام ابن القیم الجوزیہؒ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب “روضۃ المحبین و نزھۃ المشتاقین” تصنیف فرمائی، جس میں انہوں نے محبت کے اس نازک اور گہرے احساس کو دینی، اخلاقی، نفسیاتی اور روحانی زاویوں سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
امام ابن القیم الجوزیہؒ عالمِ اسلام کے جلیل القدر علماء میں سے ایک تھے، جنہوں نے فقہ، تفسیر، حدیث، عقیدہ، روحانیت اور اخلاقیات کے موضوعات پر گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کا پورا نام محمد بن ابی بکر بن ایوب الزرعی الدمشقی تھا، اور آپ مشہور مصلح و عالمِ دین شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے شاگردِ خاص تھے۔ ابن القیمؒ کی تحریروں میں علم و وجدان کا حسین امتزاج ملتا ہے۔
آپ کی مشہور تصانیف میں زاد المعاد، مدارج السالکین، الجواب الکافی اور روضۃ المحبین شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں دل کی اصلاح، اخلاصِ نیت، اور بندگیِ ربّ کا پیغام نمایاں ہے۔ انہوں نے انسان کے باطن، روح اور اخلاق کو قرآن و سنت کے آئینے میں سمجھانے کی جو سعی کی، وہ آج تک اہلِ علم و دل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
امام ابن القیمؒ کی یہ کتاب “روضۃ المحبین و نزھۃ المشتاقین” محبت کے موضوع پر اسلامی تعلیمات اور انسانی جذبات کا نہایت عمیق تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس میں محبت کی حقیقت، اس کے اسباب، اقسام اور اثرات کو نہایت لطیف اور فکری انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ابن القیمؒ فرماتے ہیں کہ اگر محبت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دائرے میں ہو تو یہ روح کی پاکیزگی اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جاتی ہے، لیکن اگر یہ خواہشِ نفس کے تابع ہو تو گمراہی اور ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔
انہوں نے قرآنی آیات، احادیث، اقوالِ سلف، حکما اور عربی شاعری سے استدلال کر کے بتایا ہے کہ محبت دراصل انسان کے باطن کی کیفیت ہے، جو یا تو اس کو اعلیٰ روحانی مدارج تک پہنچاتی ہے یا اسے پستیوں میں گرا دیتی ہے۔
اس کتاب کا اردو ترجمہ ابنِ سرور محمد اویس نے نہایت رواں اور علمی اسلوب میں کیا ہے۔ اسی ترجمے سے محبت کی اصل حقیقت کے بارے میں درج ذیل اقتباس آوازِ اردو نے اپنی ویڈیو میں پڑھ کر سنایا ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہبعض اہلِ علم کا کہنا ہے کہ وہ محبت، جو محبوب کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف سے ختم ہو جائے، دراصل سچی محبت نہیں۔ خالص محبت کی علامت یہ ہے کہ وہ بے وفائی یا ایذا سے کم نہ ہو، بلکہ بعض اوقات تو محبت کرنے والا محبوب کی طرف سے ملنے والی تکلیف سے بھی لذت محسوس کرتا ہے۔
ایک شاعر نے اس کیفیت کو نہایت حسین انداز میں یوں بیان کیا ہے کہ “تیری محبت نے مجھے وہاں لا کھڑا کیا ہے جہاں تُو ہے، نہ اس مقام سے آگے جا سکتا ہوں نہ پیچھے ہٹ سکتا ہوں۔ تُو نے مجھے ذلیل کیا تو میں نے خود اپنی توہین میں اضافہ کیا۔ جو شخص تیری خاطر میری اہانت کرے، وہ میرے نزدیک محترم نہیں۔ تُو اگر میرے دشمنوں کے مشابہ ہو گئی ہے تو میں ان سے بھی محبت کرنے لگا ہوں، کیونکہ وہ تجھ سے ملتے جلتے ہیں۔ مجھے سلام سننا اس لیے اچھا لگتا ہے کہ اس میں تیرا ذکر ہوتا ہے، اس لیے اب لوگ جتنے چاہیں، سلام کرتے رہیں۔”
یہ وہ درجۂ محبت ہے جہاں عاشق اپنی خواہش کو محبوب کی خواہش کے تابع کر دیتا ہے، حتیٰ کہ اپنے نفس کی اہانت بھی گوارا کرتا ہے تاکہ محبوب کے انداز سے ہم آہنگ ہو جائے۔ وہ اپنے دشمنوں سے بھی محبت کرنے لگتا ہے کیونکہ وہ محبوب کے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔ یہ محبت کی انتہا ہے، اگرچہ فطرت عام طور پر اسے قبول نہیں کرتی۔
دوسری رائے یہ ہے کہ محبوب کی ایذا محبت کو زائل کر دیتی ہے، کیونکہ انسانی طبیعت فطری طور پر تکلیف دہ چیز سے نفرت کرتی ہے، جیسے وہ خوبصورت اور حسین چیز سے محبت کرتی ہے۔ مگر حقیقت میں معاملہ یوں نہیں۔ دل محبوب کی تکلیف سے تو بیزار ہوتا ہے، لیکن محبوب کی ذات سے محبت قائم رہتی ہے۔ یوں محبت محبوب کی ذات سے ہوتی ہے، اس کے تکلیف دہ رویے سے نہیں۔ غالب محبت مغلوب نفرت کو دبا دیتی ہے، اگرچہ وہ بالکل مٹتی نہیں۔
ایک شاعر اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے کہ “اگر تُو کہے کہ آگ میں کود جا، اور میں جان لوں کہ اس سے تُو راضی ہو جائے گا یا مجھے تیرا قرب حاصل ہوگا، تو میں بےجھجک آگ میں کود جاؤں گا، کیونکہ اس سے مجھے یقین ہوگا کہ تیرے دل میں میرا خیال تو آیا۔” اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ عاشق کو محبوب کا ظلم اچھا نہیں لگتا، مگر اسے اس بات سے خوشی ہوتی ہے کہ محبوب کے دل میں اس کا ذکر تو آیا۔ یہ انسانی فطرت کے مطابق بات ہے، کیونکہ عاشق محبوب کی ناراضی سے نہیں بلکہ اس کی بےتوجہی سے ڈرتا ہے۔
اسی مفہوم کو ایک طبیب نے مثال سے سمجھایا کہ “میں کڑوی دوا سے محبت کرتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ میری شفا کا ذریعہ ہے۔ میں اسے زبان پر رکھتا ہوں تو کڑواہٹ کے باوجود اس سے محبت محسوس کرتا ہوں۔” یہی حال عاشق کا ہے، جو محبوب کے راستے کی مشقتوں میں لذت پاتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تکلیفیں ہی آخرکار محبوب کے وصال تک پہنچاتی ہیں۔
ایک اور شاعر کہتا ہے کہ “وہ اونٹ جن پر ہم سفر کرتے ہیں، تجھے یاد کرتے ہیں یہاں تک کہ کھانے پینے سے غافل ہو جاتے ہیں۔ ان کے چہرے تیرے نور سے چمک اٹھتے ہیں، اور جب وہ تھکن محسوس کرتے ہیں تو میں انہیں وعدہ دیتا ہوں کہ جلد ملاقات ہوگی، تو وہ اس وعدے سے پھر تازہ دم ہو جاتے ہیں۔”
یہ سب اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ محبت دراصل مشابہت اور ہم آہنگی کا نام ہے۔ انسان اسی سے محبت کرتا ہے جس کے ساتھ اس کے مزاج، خیالات اور جذبات میں مناسبت پائی جاتی ہے۔ اسی بات کی تائید نبی کریم ﷺ کی حدیث سے ہوتی ہے کہ “روحیں بکھرے ہوئے لشکر ہیں، جو ایک دوسرے سے مانوس ہو جائیں وہ جڑ جاتی ہیں، اور جو اجنبی ہوں وہ الگ رہتی ہیں۔”
یہی کیفیت اس وقت بھی ظاہر ہوئی جب بقراط کو ایک کمزور اور ناقص آدمی سے محبت ہو گئی، تو وہ حیران ہو کر بولا: “جب بھی میں نے کسی سے محبت کی ہے، اس کے اخلاق و عادات مجھ میں سرایت کر گئے ہیں۔” ایک دوسرے شاعر نے اسی خیال کو یوں بیان کیا: “اگر لوگ تجھ سے میرے عیبوں کا ذکر کریں تو سمجھ لینا کہ میں کامل ہو چکا ہوں۔”
اطباء نے کہا ہے کہ عشق دراصل ایک روح کا دوسری روح میں داخل ہو جانا ہے، جو ان کے درمیان پائی جانے والی مشاکلت اور ہم آہنگی کی بنا پر ہوتا ہے۔ جیسے پانی کے دو قطرے آپس میں مل جائیں تو انہیں الگ کرنا ممکن نہیں رہتا۔ محبت کرنے والے دو افراد بھی اسی طرح ایک دوسرے کے دکھ اور خوشی میں شریک ہو جاتے ہیں۔
ایک واقعہ اس کی خوبصورت مثال ہے۔ ایک عاشق بیمار ہو گیا۔ اس کے دوست آئے اور بتایا کہ اس کا محبوب بھی بیمار ہے۔ عاشق نے کہا، “مجھے اپنی بیماری کا سبب سمجھ نہیں آ رہا تھا، مگر اب معلوم ہوا کہ میں اس لیے بیمار ہوں کہ میرا محبوب بیمار ہے۔” جب اسے خبر ملی کہ محبوب صحت یاب ہو گیا ہے تو اس نے خوشی سے کہا، “اب میں بھی تندرست ہو جاؤں گا، کیونکہ میری بیماری دراصل اس کی بیماری تھی۔” پھر اس نے اپنے محبوب کو یہ اشعار لکھے:
“مجھے بخار چڑھا مگر مجھے علم نہ تھا کہ تجھے بھی بخار ہے۔ جب عیادت کرنے والوں نے بتایا تو سمجھا کہ میری بیماری تیری وجہ سے ہے۔ جب خدا نے تجھے شفا دی تو میں بھی تندرست ہو گیا، یہاں تک کہ میری اور تیری صحت و بیماری ایک ہو گئیں۔”
اسی طرح ایک اور عاشق کا حال تھا کہ جب اس کا محبوب بیمار ہوا تو وہ بھی اس کے غم میں بیمار پڑ گیا، اور جب محبوب تیمار داری کے لیے آیا تو عاشق صرف اسے دیکھ کر صحت یاب ہو گیا۔
یہ سب مثالیں بتاتی ہیں کہ محبت ہمیشہ باہمی مشابہت، تعلق اور ہم آہنگی سے پیدا ہوتی ہے۔ جب دو دلوں کے مقاصد، عادات اور احساسات ایک جیسے ہوں تو ان کے درمیان قرب اور انسیت بڑھتی ہے۔ اور جب دلوں میں تضاد ہو تو وہاں محبت نہیں بلکہ دوری اور نفرت جنم لیتی ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومنوں کی آپس کی محبت اور ہمدردی ایک جسم کی مانند ہے، جب جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ یہی محبت کی حقیقی روح ہے۔ :
محبت کی یہ تفہیم محض جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک روحانی حقیقت ہے۔ ابن القیمؒ کے نزدیک حقیقی محبت وہ ہے جو انسان کو اپنے محبوب کی رضا میں فنا کر دے — خواہ وہ محبوب خالق ہو یا مخلوق۔ لیکن کامل محبت وہی ہے جو بندے کو اپنے رب کے قریب کرے، کیونکہ وہی محبت پاکیزہ، دائمی اور بےغرض ہے۔
“روضۃ المحبین” اس بات کی گواہ ہے کہ امام ابن القیمؒ نے انسانی دل کی گہرائیوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھا، اور بتایا کہ محبت اگر اپنی اصل پر قائم ہو تو یہ بندگی بن جاتی ہے، اور اگر اپنی راہ سے ہٹ جائے تو آزمایش۔ یہی توازن اس کتاب کو ایک علمی، روحانی اور ادبی شاہکار بناتا ہے — اور یہی پیغام آج بھی ہمارے دلوں کے صحرا کو سیراب کرتا ہے۔