Authenticity of Hadith has been a cornerstone of Islamic scholarship since the earliest generations of Muslims. From the very beginning, the Ummah understood that safeguarding the sayings of the Prophet Muhammad ﷺ was not just an academic duty but a spiritual responsibility. Any fabricated or unauthenticated narration could mislead believers, distort faith, and weaken the foundation of Islam. To counter this danger, scholars of Hadith devoted their lives to filtering truth from falsehood, applying rigorous methods of verification, and ensuring that the Sunnah remained pure for future generations.
The Legacy of Hadith Preservation
Muslim scholars, known as Muhaddithin, developed a meticulous science of Hadith authentication. They examined not only the text (matn) of each narration but also the chain of transmitters (isnad). By evaluating the credibility, memory, and reliability of narrators, they classified Hadith into categories such as Sahih (authentic), Hasan (sound), Da’if (weak), and Mawdu ‘ (fabricated).
This long intellectual struggle reflects how seriously the Ummah took the Authenticity of Hadith. Unlike other civilizations, where oral traditions often blurred with myths, Islam emphasized precision, accuracy, and evidence.
Mufti Tariq Amir Khan’s Critical Contribution
One of the contemporary contributions to this scholarly tradition is Mufti Tariq Amir Khan’s work “Pak o Hind Mein Zaban Zed-e-Awam wa Khawas Ghair Muatabar Riwayat Ka Fanni Jaiza.” Associated with Jamia Farooqia Karachi, Mufti Tariq Amir Khan specialises in Hadith and is recognised for his critical analysis of widely circulated but unauthenticated narrations.
His monumental seven-volume research examines 106 popular narrations often quoted in gatherings, sermons, and books but lacking strong evidence. By scrutinizing the isnad, analyzing the matn, and presenting scholarly verdicts, he educates readers about the dangers of spreading weak or fabricated narrations. This effort strengthens the cause of the Authenticity of Hadith, ensuring that Muslims differentiate between true prophetic guidance and cultural or mythical additions.
The Challenge of Israeli Narrations
A significant portion of Mufti Tariq’s book deals with Israeli narrations (Isra’iliyyat), stories originating from Jewish traditions that found their way into Muslim discourse. These narrations fall into three categories:
- Supported by Islamic sources – permissible to narrate.
- Contradicted by Qur’an or authentic Hadith – rejected outright.
- Neither confirmed nor denied – may be mentioned only as stories without belief or rejection.
The scholars emphasized that such narrations should never be falsely attributed to the Prophet ﷺ. The Authenticity of Hadith demands that only proven narrations with a reliable isnad can be linked to him.
Case Studies: Two Famous Narrations
Two well-known sayings often misattributed to the Prophet ﷺ include:
- “Neither My heavens nor My earth can contain Me, but the heart of a believing servant can contain Me.”
- “The heart is the house of the Lord.”
Renowned scholars such as Ibn Taymiyyah, Imam Suyuti, and Hafiz al-Sakhawi, among others, have clarified that these are not authentic Prophetic Hadith but rather fall under the category of Israeli narrations. While their meanings may carry wisdom, labelling them as Hadith compromises the Authenticity of Hadith and misguides the Ummah.
Why Authenticity Matters
The consequences of fabrications are severe. Spreading false narratives leads to innovations, superstitions, and distorted beliefs. On the other hand, preserving authentic Hadith ensures the Ummah’s faith remains aligned with the Qur’an and Sunnah. This balance between rejecting falsehood and embracing truth reflects the dual responsibility of “exposing fabrications” and “preserving true faith.”
For students, scholars, and even lay Muslims, understanding the Authenticity of Hadith is not optional — it is essential. Faith cannot rest on shaky foundations; it requires the clarity and authority of authentic Prophetic guidance.
Conclusion
The journey of Hadith preservation, from the earliest scholars to contemporary researchers like Mufti Tariq Amir Khan, offers a timeless lesson. Islam thrives on truth, not myths. The Authenticity of Hadith protects the Ummah from deviation. It ensures the continuity of Prophetic teachings and safeguards the spiritual heart of Islam.
As readers and believers, our responsibility is clear. We must study, verify, and attribute to the Prophet ﷺ only what is proven by authentic chains of transmission. By doing this, we honor the legacy of the Muhaddithin and protect our faith from fabrications.
If you’re interested in reading this book, click the link below for a free download.
https://drive.google.com/file/d/1hyQbVPSXRYUnewzWo4M4ywksKGRwvFZV/view?usp=sharing
If you’d like to listen to this book in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the audiobook.
You can also watch the same video on these social media platforms.
امتِ محمدیہ نے ابتدا ہی سے اس بات کو اپنی ذمہ داری سمجھا کہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث ہر حال میں محفوظ رہیں اور ان میں کسی غیر مصدقہ بات یا من گھڑت روایت کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ محدثین نے اپنے اپنے عہد میں غیر معمولی محنت، تحقیق اور چھان پھٹک کے ذریعے یہ یقینی بنایا کہ صرف وہی روایت دین کا حصہ بن سکے جو معتبر اسناد اور محققینِ حدیث کے اصولی معیار پر پوری اترتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں ہر زمانے میں ایسی علمی کاوشیں سامنے آتی رہی ہیں جن کا مقصد صحیح اور غیر صحیح روایات کے فرق کو واضح کرنا اور امت کو احتیاط کی تعلیم دینا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کوشش مفتی طارق امیر خان نے اپنی کتاب پاک و ہند میں زبان زدِ عوام و خواص غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ میں پیش کی ہے۔
مفتی طارق امیر خان جامعہ فاروقیہ کراچی سے وابستہ ہیں اور حدیث میں تخصص رکھتے ہیں۔ ان کی علمی اور تحقیقی خدمات کا ایک نمایاں پہلو عوام و خواص میں زبان زد روایات کا ناقدانہ تجزیہ ہے۔ وہ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ کسی روایت کے بارے میں حتمی رائے اس وقت قائم کی جا سکتی ہے جب اس کی اسناد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، محدثین کے اقوال دیکھے جائیں اور معتبر مصادر سے اس کی حیثیت متعین کی جائے۔ اگر کسی روایت کی سند معتبر قرار پاجائے تو اس کا حکم بدل بھی سکتا ہے۔ ان کی تحقیق میں علمی احتیاط اور اصولی استقامت نمایاں ہیں۔ اس بات کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ان کی کتاب پر شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان رحمۃ اللہ علیہ کی تقریظ موجود ہے، جو اس کام کے علمی استحکام اور قبولیت کی علامت ہے۔ مزید یہ کہ یہ کتاب سات جلدوں پر مشتمل بتائی جاتی ہے، جس سے اس کے علمی دائرۂ کار اور وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔
پاک و ہند میں زبان زدِ عوام و خواص غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ میں مصنف نے 106 مشہور روایات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے جو عموماً عوامی محفلوں اور علمی مجالس میں بیان ہوتی رہتی ہیں لیکن ان کی حیثیت مشکوک یا غیر ثابت ہوتی ہے۔ کتاب میں ہر روایت کے بارے میں اسناد کی چھان بین، متن کا تنقیدی جائزہ، محدثین کی آراء اور فنی حکم درج ہے۔ مصنف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسی روایات کو بیان کرنے سے احتراز کیا جائے جب تک ان کی سند معتبر نہ ہو جائے۔ اسی طرح موضوعات اور من گھڑت روایات کے علمی پس منظر کو بھی کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اس امر پر روشنی ڈالتی ہے کہ دین کے معاملے میں غیر مصدقہ روایات کا بیان امت کے لیے گمراہی کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے علمی سنجیدگی اور تحقیق کے بغیر کوئی روایت رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب نہیں کی جانی چاہیے۔
اس کتاب سے اسرائیلی روایات کے موضوع پر درج ذیل اقتباس آوازِ اردو نے اپنی ایک ویڈیو میں پڑھ کر سنایا ہے:
“ہمارے معاشرے میں اسرائیلی روایات (بنی اسرائیل سے منقول روایات) کا ایک بڑا ذخیرہ عام ہے۔ ان کے بارے میں دو بنیادی امور نہایت اہم ہیں:
1- اسرائیلی روایات کو ہمیشہ شریعت کی روشنی میں پرکھا جائے گا۔ صرف وہی روایات بیان کرنے کے قابل ہیں جو شریعتِ محمدیہ کے موافق ہوں یا کم از کم اس کے خلاف نہ ہوں۔ اگر کوئی اسرائیلی روایت شریعت کے خلاف ہو تو اسے بیان کرنے سے احتراز کیا جائے گا۔ حافظ ابن کثیر نے بھی اسی اصول کی وضاحت کی ہے کہ اسرائیلی روایات تین قسموں میں تقسیم ہیں:
پہلی وہ جن کی صحت ہمیں معلوم ہو کیونکہ ہمارے پاس موجودہ نصوص ان کی تائید کرتے ہیں۔
دوسری وہ جن کا جھوٹ ہونا معلوم ہو کیونکہ نصوص ان کی مخالفت کرتے ہیں۔
تیسری وہ جن کے بارے میں سکوت ہے، نہ ان کی تصدیق کی گئی ہے نہ تکذیب۔ ایسی روایات کو صرف حکایت کے طور پر ذکر کیا جا سکتا ہے، ان پر ایمان لانا یا جھٹلانا ضروری نہیں۔
2- دوسری اہم بات یہ ہے کہ بعض اوقات اسرائیلی روایات کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے، حالاں کہ یہ درست نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف صرف وہی روایت منسوب کی جا سکتی ہے جو معتبر سند کے ساتھ ثابت ہو۔ اس لیے ان روایات کو مرفوع (یعنی نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب) بیان کرنا جائز نہیں، بلکہ انہیں صرف اسرائیلی روایات کہہ کر ذکر کرنا چاہیے۔
موضوعِ تحقیق
اس ضمن میں دو مشہور روایات کا جائزہ لیا جائے گا:
“میرے آسمان اور زمین مجھے نہیں سماسکتے، البتہ میرے مومن بندے کا دل مجھے اپنے اندر سما لیتا ہے۔”
“دل رب کا گھر ہے۔”
پہلی روایت کی تحقیق
محدثین مثلاً امام ابن تیمیہ، علامہ زرکشی، علامہ عراقی، حافظ سخاوی، امام سیوطی، ملا علی قاری، علامہ طاہر پٹنی اور حافظ ابن عراق نے واضح کیا ہے کہ یہ روایت رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہے بلکہ اسرائیلی روایات میں سے ہے۔ ان کے مطابق اس روایت کو مرفوعاً بیان کرنا درست نہیں، البتہ اسرائیلیات کے طور پر ذکر کیا جا سکتا ہے۔
دوسری روایت کی تحقیق
“دل رب کا گھر ہے” کے بارے میں بھی انہی محدثین نے کلام کیا ہے اور اسے بھی غیر ثابت قرار دیا ہے۔ ابن تیمیہ کے مطابق یہ روایت بھی پہلی روایت ہی کی طرز کی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن کا دل اللہ پر ایمان، معرفت اور محبت کا مرکز ہے، لیکن بطورِ حدیث یہ روایت نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔”
مفتی طارق امیر خان کی یہ کاوش اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ دین میں صحیح اور غیر صحیح روایت کے فرق کو سمجھنا کتنا ضروری ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ امت کی رہنمائی کا اصل سرمایہ ہیں، اس لیے ان میں کسی غیر معتبر بات کی آمیزش کو روکنا علمی دیانت اور ایمانی ذمہ داری ہے۔ یہ کتاب نہ صرف طلبہ و علما بلکہ عام قارئین کے لیے بھی ایک قیمتی رہنما ہے، کیونکہ یہ انہیں یہ سکھاتی ہے کہ دین کی بنیاد صرف تحقیق شدہ اور معتبر روایات پر ہونی چاہیے۔ یوں یہ کام امت کی علمی وراثت کو محفوظ رکھنے کی ایک اہم کڑی ہے۔