Future prediction has always intrigued the human mind — a mystery that sits between imagination and reality. For centuries, people have wondered whether it is truly possible to foresee future events or if such stories are merely coincidences shrouded in myth. From prophets to psychics, and from philosophers to scientists, history is filled with people who claimed to see the future long before it unfolded.
In his thought-provoking children’s book Na Qabil-e-Yaqeen Sachaiyan (Unbelievable Truths), Muhammad Tahir Naqqash, a distinguished writer and journalist, brings the mystery of future prediction to young readers fascinatingly and educationally. Through fictional storytelling, he helps children explore how observation, curiosity, and reasoning lead to discovery — lessons essential for nurturing young, questioning minds.
The Vision Behind Tahir Naqqash’s Stories
Muhammad Tahir Naqqash is known for blending creativity with moral purpose. His writings are not merely stories; they are tools for intellectual growth. As an author and educator, he has written numerous books on history, ethics, and character-building. His stories about Salahuddin Ayyubi’s victories, moral reform, and awareness against superstitions stand as examples of how literature can guide the youth toward positive thinking.
Even critics who pointed out minor citation gaps in his work agree that his literary and journalistic contributions remain highly valuable. Naqqash’s narrative style transforms deep philosophical ideas into simple, captivating tales. His book Na Qabil-e-Yaqeen Sachaiyan (Unbelievable Truths) is a perfect example — a collection of fourteen mind-bending incidents that inspire wonder and curiosity in children.
A Mysterious Tale of Future Prediction
Among the fourteen stories, one remarkable tale stands out — a story adapted by AwazeUrdu into a narrated video for children. It tells the fictional yet eerily realistic story of Ted Kermalosh, a young man with a strange gift of predicting the future.
Ted spends his days reading in a library. One afternoon, as he flips through a book, a sudden darkness clouds his vision. Then, through the layers of shadow, he begins to see radiant light — as if messages are being transmitted directly into his mind. Moments later, he blurts out a shocking prophecy:
“Reagan will be attacked. A man named Hinckley will try to kill him — for the love of a woman, Jodie Foster. Reagan insulted her once at Universal Studios. Hinckley will do it to win her love. The attack will happen, but Reagan will survive.”
The people around him laugh, calling him insane. Yet days later, history repeats exactly as Ted described. The prophecy turns out to be true.
The Power — and Fear — of Knowing the Future
After this unbelievable incident, Ted writes another future prediction and seals it at a notary’s office. He predicts a plane crash involving a Western Airlines DC-10 at Mexico City Airport. Weeks later, news breaks: Flight 2605 crashes in Mexico City, killing seventy-three people — the exact number Ted foresaw. When journalists open his sealed envelope, every word matches reality.
Ted explains calmly, “I saw the darkness, then a blinding light. The image of a crashing plane appeared before me. I didn’t believe it myself, but my intuition said it was true.”
Even more astonishingly, Ted’s earlier prediction about Muhammad Ali’s heavyweight fight against Leon Spinks also turns out to be correct. Before he dies, he leaves one final envelope — a future prediction about a global war — to be opened only “if we are still alive.”
Exploring the Limits of the Human Mind
This story isn’t about fear; it’s about wonder. It reminds children that the human mind is still full of hidden powers waiting to be discovered. Even in the age of science, there are mysteries no one has yet solved. Stories like this encourage young readers to think beyond what they see — to question, to imagine, and to keep learning.
The lesson is clear: knowledge never ends, and the search for truth must always continue. Whether through science or imagination, exploring the unknown is what makes us human.
Conclusion
Future prediction remains one of the most captivating puzzles of human existence. Muhammad Tahir Naqqash’s story turns this mysterious concept into an educational adventure for children. It teaches them curiosity, observation, and the courage to question — qualities that build not only scientists but thinkers and dreamers.
If you’re interested in reading this book, click the link below for a free download.
https://drive.google.com/file/d/1S7aX1JxR9hi8BfZLcLk4N0myLsRq1DS9/view?usp=sharing
If you’d like to listen to this book in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the audiobook.
You can also watch the same video on these social media platforms.
As long as the human brain continues to explore, the wonders of future prediction — its amazing truths and terrifying mysteries — will keep inspiring generations to come.
پیش بینی اور مستقبل کے بارے میں علم انسانی ذہن کے اُن عجائب میں سے ہے جنہیں صدیوں سے انسان حیرت اور تجسس کی نگاہ سے دیکھتا آیا ہے۔ تاریخ ایسے بے شمار افراد کا تذکرہ کرتی ہے جنہوں نے آنے والے واقعات کا ذکر پہلے ہی کردیا اور وقت نے اُن کی سچائی پر مہر بھی ثبت کی۔ مختلف تہذیبوں میں نجومی، صوفیا، حساس مزاج افراد اور ماہرینِ نفسیات ایسی صلاحیتوں کا مطالعہ کرتے رہے ہیں۔ اسی تصور کو بچوں کی ذہنی تربیت کے لیے کہانیوں کے انداز میں پیش کرنا انہیں حیرت، مشاہدے اور غور و فکر کا درس دیتا ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر ابو عبداللہ محمد طاہر نقاش نے ایک فرضی کردار کے ذریعے بچوں کے سامنے مستقبل بینی کی صلاحیت کو تفریحی اور سبق آموز انداز میں بیان کیا ہے۔
محمد طاہر نقاش ایک صاحبِ طرز ادیب، محقق اور فعال صحافی ہیں جنہوں نے بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے متعدد کہانیاں، تاریخی واقعات اور اخلاقی اسباق پر مبنی کتابیں تحریر کیں۔ وہ دینی و سماجی موضوعات پر بطور مدیر لکھنے کے ساتھ کالم نگاری بھی کرتے رہے اور اپنے قلم کو اصلاحِ معاشرہ کے لیے بروئے کار لائے۔ ان کی تحریروں میں صلاح الدین ایوبی کی فتوحات، بدعات سے آگاہی، کردار سازی اور بچوں کی مثبت تربیت جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کے مختلف مجموعے ’’قلم کے آنسو‘‘ جیسے عنوانات سے بھی منظرِ عام پر آئے۔ اگرچہ بعض مقامات پر حوالہ جاتی مواد کی کمی پر ہلکی تنقید سامنے آئی، مگر مجموعی طور پر ان کی ادبی و صحافتی خدمات مؤثر اور قابلِ قدر مانی جاتی ہیں۔
’’ناقابلِ یقین سچائیاں‘‘ ایک دلچسپ اور سنسنی خیز کتاب ہے جو بچوں کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ اس میں چودہ ایسے حیرت انگیز واقعات بیان کیے گئے ہیں جن کی عقلی اور سائنسی توجیہہ آج تک پیش نہیں کی جاسکی۔ کہیں یہ واقعات کہانیانہ رنگ رکھتے ہیں اور کہیں حقیقت کے قریب ہوکر سوچ کے نئے دروازے کھولتے ہیں۔ یہ کتاب بچوں کے ذہن میں تجسس، حیرت اور کائنات کی وسعت کا احساس پیدا کرتی ہے اور انہیں یہ باور کرواتی ہے کہ دنیا میں بہت کچھ ابھی دریافت ہونا باقی ہے۔
اسی کتاب میں سے ایک واقعہ آوازِ اردو نے بچوں کے لیے اپنی ویڈیو میں بیان کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس نام کا کوئی کردار تاریخ میں ثابت نہیں، البتہ ایسے افراد کا ذکر کہیں کہیں ملتا ہے جن کے بارے میں مستقبل بینی کے دعوے کیے گئے۔
ٹیڈ کر مالوش حسبِ معمول آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا ہوا لائبریری میں داخل ہوا۔ کیٹلاگ کے سامنے جا کر رکا اور درازوں پر درج حروفِ تہجی کو بغور دیکھنے لگا۔ مطلوبہ حرف پر پہنچ کر اس نے دراز کھولی اور اندر موجود کارڈوں کو تیزی کے ساتھ دیکھنا شروع کیا۔ ایک کارڈ پر اس کی توجہ ٹھہر گئی۔ اس نے جیب سے قلم نکالا، ایک کاغذ پر کچھ لکھا اور وہ پرچہ بوڑھے لائبریرین کو تھما دیا۔ لائبریرین نے وہ چٹ آگے اسٹاف کے حوالے کی۔ کچھ دیر بعد اسسٹنٹ کتاب لے آیا۔ ٹیڈ ایک کونے میں بیٹھ کر کتاب کی ورق گردانی کرنے لگا۔
اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ یہ تاریکی گہری ہوتی گئی۔ پھر یوں محسوس ہوا جیسے تاریکی کی تہوں میں سے روشنیاں پھوٹ رہی ہوں۔ اس نے اپنی نظریں روشنی پر جما دیں۔ گویا کوئی غیر مرئی تحریر اس کے ذہن میں منتقل ہوگئی ہو۔ چند لمحوں کی اس کیفیت کے بعد سب کچھ معمول پر آگیا۔ ٹیڈ نے کتاب بند کی اور بلند آواز میں کہنے لگا:
“ریگن کو قتل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایک نوجوان جس کا نام ہینکلے ہوگا، صدر ریگن پر حملہ کرے گا۔ وہ جو ڈی فوسٹر کی بے عزتی کا بدلہ لے گا۔ ریگن نے یونیورسل اسٹوڈیو میں جو ڈی کی تذلیل کی تھی۔ ہینکلے جو ڈی سے محبت کرتا ہے اور وہ کہتی ہے کہ جب تک ریگن کو قتل نہ کرو… وہ شادی نہیں کرے گی۔ حملہ ہوگا مگر ریگن بچ جائے گا!”
لائبریرین نے اسے ڈانٹ کر خاموش رہنے کا کہا مگر وہ پرجوش تھا۔ لوگ اس پر ہنسنے لگے۔ گھروالوں نے بھی اسے دماغی مریض سمجھ کر ڈاکٹروں کو دکھایا، لیکن ماہرینِ نفسیات نے اسے صحت مند قرار دیا۔ کچھ دن بعد واقعی صدر ریگن پر حملہ ہوا، حملہ آور ہینکلے تھا، اور وجوہات بھی وہی تھیں جن کا ٹیڈ نے ذکر کیا تھا۔
اب لوگوں کی نگاہیں ٹیڈ پر جم گئیں۔ جلد ہی اسے پھر وہی کیفیت محسوس ہوئی۔ اس نے ایک اور پیش گوئی کاغذ پر تحریر کی اور اسے ایک لفافے میں بند کر کے نوٹری پبلک کے پاس جمع کروا دیا۔ اس پیش گوئی کے مطابق ویسٹرن ایئر لائنز کا جہاز ڈی سی-10 میکسیکو سٹی کے ایئرپورٹ پر غلط اشارے کے سبب گر کر تباہ ہوگا۔ ستر سے زائد افراد ہلاک ہوں گے۔ فلائٹ نمبر 2605 یا 2065 ہوگا۔ کچھ عرصے بعد نیوز میں خبر چلی: فلائٹ 2605، ڈی سی-10، میکسیکو سٹی میں تباہ؛ تہتر افراد ہلاک۔ نوٹری پبلک کے دفتر میں صحافیوں کی موجودگی میں لفافہ کھولا گیا اور تحریر لفظ بہ لفظ درست ثابت ہوئی۔
ٹیڈ نے صحافیوں کو بتایا:
“مجھے پہلے تاریکی نے گھیر لیا، پھر روشنی میں ایک جہاز ٹکراتا دکھائی دیا۔ میں نے ستر کے قریب لاشیں دیکھیں۔ جہاز کا نمبر پڑھا۔ شہر پہچانا۔ میں نے سوچا یہ سب بکواس ہے مگر وجدان کہہ رہا تھا کہ سچ ہے۔”
نوٹری پبلک بروس آشورتھ نے اعتراف کیا کہ شروع میں اسے مذاق سمجھا گیا تھا۔
اس کے بعد ٹیڈ نے بتایا کہ 1978ء محمد علی اور لیون سپنکس کی ہیوی ویٹ فائٹ کا نتیجہ بھی اس نے اخباری لفافے میں پہلے ہی لکھ کر ایڈیٹر کو دے دیا تھا، اور وہ پیش گوئی بھی درست ثابت ہوئی۔
آخر میں ٹیڈ نے عالمی جنگ سے متعلق ایک سیل بند لفافہ دکھاتے ہوئے کہا:
“میں یہ نوٹری کے پاس جمع کروا رہا ہوں۔ جنگ شروع ہونے پر اسے کھول کر دیکھ لینا… بشرطیکہ میں اور تم زندہ ہو!”
یہ واقعہ بچوں کے ذہن میں اس حقیقت کو اُجاگر کرتا ہے کہ انسانی دماغ اب بھی بہت سے رازوں سے پردہ نہیں اٹھا پایا۔ انسان نے سائنس کے ذریعے بہت کچھ جان لیا ہے، مگر کائنات کے اسرار ابھی بھی بے شمار ہیں۔ ایسی کہانیاں بچوں کے اندر جستجو، ذہنی بیداری اور تحقیق کی رفتار کو بڑھاتی ہیں۔ علم اور مشاہدہ ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔