Historical Town Makhad: The Astonishing Heritage Site Pakistan Nearly Forgot

Historical town Makhad, often described as Pakistan’s forgotten jewel, stands today as a living reminder of centuries-old civilisation resting quietly along the Indus. Anyone who wishes to witness how a settlement from three hundred years ago might have looked can still find that timeless picture in Makhad — a place where ancient stone-carved walls, narrow vaulted streets, temples, mosques, gurdwaras, and riverfront ghats survive in their worn yet dignified form. This historical town retains an authenticity rare in Pakistan, a characteristic vividly captured in the Urdu feature written by celebrated journalist Sajjad Azhar, published on Independent Urdu on 18 December 2020, which forms the basis of this blog.

A Glimpse into an Ancient Civilization

Located near the Indus River, the historical town of Makhad is believed to have existed long before recorded history. The very name “Makhad” comes from the Sanskrit roots meaning “great pit,” derived from Maha Khad. According to local accounts, its history dates back to approximately 2000 BCE, when the Kuru and Pandu tribes fought for control of the nearby water passage at the Indus River. The region even witnessed the passage of the Persian emperor Darius’s fleet and later, the soldiers of Alexander the Great, who sought refuge here.

The Trade Hub That Time Forgot

For centuries, Makhad thrived as a bustling riverside marketplace — a historical town that once rivaled today’s great commercial centers. Long before roads and railways, trade boats from Sukkur would end their voyage here, making Makhad the northernmost harbor of the Indus trade route. The town’s skilled merchants, especially from the Pracha community, traded textiles, carpets, and salt from Kalabagh across India, China, and Central Asia. Makhad was to the north what Karachi is today — a thriving hub of wealth and cultural exchange.

The Decline of a Once-Majestic Heritage Site

But like many ancient towns, Makhad’s glory began to fade when progress arrived in the form of the railway. In 1894, when the North Western Railway connected Rawalpindi to Multan, river trade declined, and the historical town slipped into obscurity. The Indus Flotilla Company, which once operated steamers between Sukkur and Makhad, was absorbed into the railway network. The same waters that had nourished its prosperity also turned destructive. Repeated floods in 1841, 1889, 1928, and even 2010 devastated the town and its surrounding settlements. Today, Makhad’s vast cemetery — said to be nearly a thousand years old — stretches further than the living town itself.

Cultural Layers of Faith and Tradition

What makes Makhad exceptional among heritage sites is its deep interfaith past. From Zoroastrians to Buddhists, from Hindus to Muslims, every faith left its imprint here. An ancient Hindu temple still stands by the riverbank, its stone steps leading down to the Indus, alongside the ruins of what was once a library filled with sacred texts. Later, the arrival of Muslim saints and scholars transformed Makhad into a spiritual center. Among its treasures is a rare library containing more than eleven thousand manuscripts, including one handwritten copy of the Qur’an by Emperor Aurangzeb.

The Power Struggles of the Spiritual and the Political

The historical town also witnessed intense rivalries between local spiritual leaders and tribal chiefs. The Pirs of Makhad, such as Pir Safiuddin and his forefathers, played prominent roles in regional politics — supporting national figures like Fatima Jinnah and opposing powerful landlords of Kalabagh. The Khans of Makhad, on the other hand, were known for their tribal authority and long-standing control over river tolls. During British rule, Pir Ghulam Abbas was even rewarded with thousands of acres of land for aiding the British army during World War I.

Makhad’s Revival through Tourism and Preservation

Today, as Pakistan expands its tourism and heritage preservation efforts, Makhad stands on the verge of rediscovery. The ongoing development of the western route of the China–Pakistan Economic Corridor (CPEC) passes close to the town, offering hope for renewed access and attention. The historical town could easily become a vibrant heritage site — its multi-story riverside mansions transformed into boutique hotels, its ancient ghats restored for visitors, and its fading relics protected as part of Pakistan’s cultural identity.

If you’re interested in reading this article online, click the link below.

https://www.independenturdu.com/node/55116

If you’d like to listen to any Essay in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the audiobook.

You can also watch the same video on these social media platforms.

As journalist Sajjad Azhar beautifully captured in his, “If you want to see how a city looked three thousand years ago, go to Makhad.” His words remind us that this forgotten jewel of Pakistan’s heritage still gleams beneath layers of dust and time, waiting for the world to rediscover it.

مکھڈ — ایک قدیم مگر بھولا بسرا تاریخی ورثہ

برصغیر پاک و ہند کی سرزمین صدیوں پر محیط تہذیبوں کا گہوارہ رہی ہے۔ یہاں قدم قدم پر ایسی تاریخی بستیاں اور قدیم تمدنی نشانات موجود ہیں جو ماضی کی ہزاروں کہانیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں موہنجو دڑو اور ہڑپہ جیسی قدیم تہذیبوں کے آثار آج بھی انسانی تاریخ کے حیرت انگیز اور پرشکوہ ورثے کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح مکلی کا عظیم الشان قبرستان، جو دنیا کے سب سے بڑے تاریخی قبرستانوں میں شمار ہوتا ہے، ہمارے ماضی کے فنون، طرزِ زندگی اور انسانی ترقی کا آئینہ دار ہے۔

انہی تاریخی مقامات کی فہرست میں ایک نسبتاً کم معروف مگر نہایت اہم جگہ مکھڈ کا نام بھی آتا ہے—ایک ایسا قصبہ جو تین سو سال نہیں بلکہ ہزاروں سالہ تہذیبی تسلسل کی گواہی دیتا ہے۔ اس مقام پر قدرے خاموشی چھائی ہوئی ہے، مگر اس کی شکستہ گلیاں، خستہ دروازے، پرانے چوبارے اور مندروں کی باقیات آج بھی اپنی پوری تاریخ کے ساتھ ہمیں آواز دیتی ہیں کہ ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھو، یہاں کچھ باقی ہے۔

اسی تاریخی مقام کے بارے میں معروف صحافی سجاد اظہرکا ایک تفصیلی اور تحقیقی مضمون 18 دسمبر 2020ء کو انڈیپنڈنٹ اردو نامی ویب سائٹ پر شائع ہوا

سجاد اظہر پاکستان کے نمایاں صحافیوں، فیچر رائٹرز اور تجزیہ کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ مختلف قومی و بین الاقوامی اخبارات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے تحقیق پر مبنی موضوعات لکھتے رہے ہیں۔ تاریخ، معاشرت، سیاست اور لاشعوری سماجی رویوں پر ان کی گہری نظر ہے۔ مکھڈ کےتاریخی قصبےکےبارے میں وہ لکھتے ہیں کہ:

اگر کوئی شخص یہ جاننا چاہے کہ تین سو سال پہلے کا ایک زندہ شہر کیسا ہوتا ہوگا تو مکھڈ اس کا بہترین جواب بن سکتا ہے۔ یہ قصبہ آج بھی اپنی تہذیبی قدامت کے ساتھ قائم ہے۔ اس کی گلیاں تنگ ضرور ہیں مگر اپنے دور کی تعمیراتی مہارت کی جھلک آج بھی دکھاتی ہیں—پتھروں سے تراشے ہوئے در و دیوار، بلند چوبارے، شکستہ مگر سلامت مندر، مساجد، گوردوارے اور گھاٹ… سب کچھ اب بھی سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔

اسلام آباد سے کوہاٹ کی سمت جاتے ہوئے تحصیل جنڈ کے نزدیک بل کھاتی ہوئی پکی سڑک مکھڈ کی طرف لے جاتی ہے۔ جیسے ہی پہاڑی ڈھلوانوں کے درمیان سے شہر کے آثار سامنے آتے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے وقت نے یہاں قدم روک لیے ہوں۔ دریا کے رخ پر بنی ہوئی تین منزلہ حویلیاں دیکھ کر خیال آتا ہے کہ یہاں کا سماجی اور تمدنی رنگ کتنا بھرپور ہوگا۔ شب براتیں، دیوالیاں، راکھی باندھنے کی رسمیں، خٹک ناچ کی محفلیں—یہ سب منظر خیال کو صدیوں پیچھے لے جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے آج مکھڈ کے مکین تاریخ کے دھندلکوں میں کھو چکے ہیں۔ شہر تو باقی ہے مگر اس کی آبادی کے مقابلے میں قبرستان کہیں زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ قبرستان کم از کم ایک ہزار سال پرانا ہے۔

لفظ “مکھڈ” کے معنی ’’بڑا کھڈ‘‘ ہیں، جو ’’مہا کھڈ‘‘ کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ محمد وزیر ابدالی کی کتاب تاریخِ مکھڈ کے مطابق اس علاقے کی تاریخ قبل مسیح تک گہری جڑیں رکھتی ہے۔ کورو اور پانڈو قبائل کے درمیان پانی کے راستے پر قبضے کی جنگ ماڑی انڈس میں لڑی گئی جو مکھڈ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اشوک کا پایۂ تخت بھی اسی خطے میں رہا۔ ایران کے بادشاہ دارا کے جرنیل بھی راستے کی تلاش میں یہاں سے گزرے۔ سکندر اعظم کی فوج کے کچھ سپاہی شکست کے بعد مکھڈ میں پناہ گزین ہوئے۔ 317ء میں یہ علاقہ سلطنتِ فارس کا حصہ تھا۔

مکھڈ قدیم زمانے میں ایک بھاری بھرکم تجارتی بندرگاہ تھا۔ جب سڑکیں نہیں تھیں تو تجارت کا سارا دار و مدار دریائے سندھ پر تھا۔ سکھر سے شمال کی جانب چلنے والی کشتیوں کا آخری پڑاؤ مکھڈ ہوا کرتا تھا۔ سینکڑوں کشتیاں یہاں چلا کرتی تھیں۔ وسط ایشیا اور افغانستان سے آنے والے تجارتی راستوں کا بڑا مرکز یہی تھا۔ پراچہ برادری کے کپڑے اور قالین چین تک جاتے تھے۔ مکھڈ اس دورکا ایک بڑا تجارتی شہر تھا، جس کے بازار میں دو سو سے زیادہ دکانیں تھیں۔

کالاباغ کا نمک بھی مکھڈ کے راستے ہندوستان اور دوسرے ممالک کو جاتا تھا۔ لیکن پھر ریل آگئی اور دریائی تجارت کا دور مدھم پڑنے لگا۔ انڈس فوٹیلا کمپنی جو اپنے سٹیمر یہاں تک چلاتی تھی، نارتھ ویسٹرن ریلوے میں ضم ہوگئی۔ جب راولپنڈی سے میانوالی اور ملتان تک پٹری بچھائی گئی تو تجارت نے اپنا رخ بدل لیا اور مکھڈ کی رونقیں کم ہونا شروع ہو گئیں، اگرچہ 1910 کے پنڈی گزیٹیئر میں اب بھی لکھا ملتا ہے کہ بڑی کشتیاں مکھڈ تک چل سکتی ہیں اور اوسطاً 600 من تک وزن اٹھاتی ہیں۔

مکھڈ کی تاریخ دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک وہ جو قبل مسیح تک پھیلی ہوئی ہے، دوسرا وہ جو 17ویں صدی میں فصیلوں کے اندر ازسرنو آباد کیا گیا۔ پرانے شہر کی تباہی کے بارے میں تاریخ خاموش ہے مگر دریائے سندھ کے بار بار آنے والے سیلابوں نے یقیناً کئی بستیوں کو تباہ کیا، جیسا کہ 1841، 1889، 1928 اور 2010 کے سیلابوں میں ہوا۔

مکھڈ سے اٹک کی طرف باغ نیلاب نامی مقام آتا ہے جہاں دریائے سندھ کو کئی حملہ آوروں نے پار کیا۔ اس مقام پر موجود سنگ مرمر کی چٹانیں دیامر سے سیلاب کے ساتھ بہہ کر آئی تھیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیلاب کس قدر طاقتور رہے ہوں گے۔

موجودہ مکھڈ 17ویں صدی کی تعمیر ہے، جس کی فصیلوں میں تین دروازے تھے۔ دریا کے ساتھ ساتھ یہاں 11 گھاٹ (پتن) ہیں۔ خان آف مکھڈ کے بنگلے کے پاس ’خاناں والا پتن‘، اسی طرح بیڑیاں والا، لوناں والا، کراڑیاں والا، پیران والا، مولوی صاحب والا، جگیاں والا، توتیاں والا، دھرابواں والا اور کھڑ پڑ والا پتن ماضی کی آبی زندگی کی جھلک دکھاتے ہیں۔

اس قصبے میں صدیوں تک مختلف مذاہب پھلتے پھولتے رہے۔ پراچہ باشندگان قدیم تاجروں کی نسل تھے جنہوں نے کپڑوں اور قالینوں کی تجارت کو بامِ عروج تک پہنچایا۔ مٹی کی ہانڈیاں (کٹویاں) اور لوہے کے بڑے کڑاہ آج بھی مکھڈ کی صنعت کی نشانی ہیں۔

ہندو تہذیب کے مرکز کی حیثیت سے یہاں ایک شاندار مندر، اس کے ساتھ ایک وسیع لائبریری اور مذہبی کمپلیکس موجود تھا۔ بعد ازاں مسلم مبلغین نے یہاں مضبوط روحانی مراکز قائم کیے۔ حضرت میاں میر کے مزار کے پاس قائم لائبریری میں گیارہ ہزار نادر کتب اور قلمی نسخے محفوظ ہیں، جن میں اورنگزیب عالمگیر کا ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن بھی شامل ہے۔

سیاسی اعتبار سے بھی یہاں پیروں اور خانوں کا اثر رہا۔ 1910 میں مکھڈ ایک میونسپل کمیٹی تھا، مگر مقامی جھگڑوں کی وجہ سے اسے یہ درجہ واپس لے لیا گیا۔ پیر صفی الدین، پیر غلام عباس، خان آف مکھڈ، اور نواب آف کالا باغ کی تاریخ اس قصبے سے وابستہ ہے۔ لارڈ ویول اور لارڈ ڈلہوزی جیسے انگریز حکام بھی کبھی نہ کبھی یہاں سے گزرے۔

صدیوں پر محیط تہذیبوں کا امین یہ قصبہ آج خاموش ضرور ہے مگر مردہ نہیں۔ سی پیک کے مغربی روٹ کے قریب ہونے کی وجہ سے مکھڈ ایک بار پھر نقشِ زندگی پر ابھر سکتا ہے۔ اگر حکومت اس کے مٹتے ہوئے آثار کو محفوظ بنا لے، تو دریائے سندھ کے کنارے بنی پرشکوہ ماڑیاں (تین منزلہ حویلیاں) سیاحتی ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ اس کی تنگ مگر خوبصورت گلیاں، گھاٹ، مندر، مساجد، درگاہیں، کٹوی کی صنعت اور پرانے زمانے کی تجارت کی داستانیں آج بھی لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

مکھڈ صرف ایک قصبہ نہیں—یہ پاکستان کے قدیم ترین تہذیبی ورثوں میں سے ایک ہے۔ اگر اسے محفوظ کر لیا جائے تو یہ مستقبل میں ایک نئی داستان لکھ سکتا ہے، وہ داستان جو صدیوں سے خاموش ہے مگر زندہ ہے۔

Leave a Comment