Women education has always been a cornerstone of social reform, intellectual growth, and civilizational progress. Women’s education, in its truest sense, is not merely about literacy but about shaping generations, nurturing moral values, and strengthening societies from within. Women education was emphasised equally for men and women in Islamic teachings, where knowledge is considered a duty rather than a privilege. Recognising this foundational principle, Muslim reformers in the Indian subcontinent began organised efforts for women education long before independence, despite intense social resistance and cultural barriers.
Islamic Vision and the Moral Foundation of Women Education
Islam places extraordinary importance on education, declaring it essential for both genders without discrimination. The emphasis on learning in the Qur’an and Hadith reflects the belief that the intellectual development of individuals leads to the moral completion of society. Since women serve as the first teachers within families, women education was seen as a vital element for social continuity and ethical upbringing. This ideological framework inspired early Muslim reformers to challenge traditional constraints and advocate educational reform for women.
Early Reformers and the Rise of Educational Consciousness
Among the most prominent advocates of women education were Sir Syed Ahmad Khan and Deputy Nazir Ahmad. Their contributions were not limited to theoretical discussions; they actively supported practical initiatives to expand educational opportunities for women. These reformers understood that without educated women, no nation could sustain intellectual or cultural progress.
Dr Rahat Abrar and a Century of Women’s Educational Struggle
Dr Rahat Abrar has meticulously documented the historical journey of women education in his research-based work, “Muslim Taleem Niswan Ke So Saal (Chilman Se Chand Tak)”. This authoritative book presents nearly a hundred years of struggle, resistance, and gradual transformation in Muslim women’s education. Rather than presenting isolated events, the author reconstructs an entire social landscape using archival records, newspapers, inscriptions, and rare documents.
The metaphor “From Veil to Moon” symbolically represents the journey from domestic confinement to intellectual visibility. It highlights how Muslim women overcame societal restrictions, ideological opposition, and cultural anxieties to claim their right to education.
Women Education and Aligarh Muslim University
A particularly revealing chapter discusses women education at Aligarh Muslim University, uncovering a largely overlooked truth: women played a decisive role in the establishment and stability of this historic institution. When examined without gender bias, the financial records and donor lists clearly show that women—both Muslim and non-Muslim—contributed generously to this educational mission.
Women donated not only money but also personal jewellery, household savings, and treasured belongings to support modern education for Muslim youth. These sacrifices stand as powerful evidence that women education was a collective national concern rather than a narrow social experiment.
Collective Sacrifice and Symbolic Resistance
The inscriptions on university buildings and records in the Aligarh Institute Gazette confirm that women stood shoulder to shoulder with men in safeguarding the educational dream. One striking metaphor described by Dr. Rahat Abrar compares the lattice boundary wall of M.A.O. College to people holding hands around the institution—among those hands were countless women’s hands, forming a protective human chain.
Sir Syed Ahmad Khan himself expressed deep satisfaction at seeing women’s names among the benefactors of the Madrasatul Uloom. He believed that once women embraced the value of education, the intellectual foundation of the nation would become unshakable.
Opposition, Resistance, and Historical Injustice
Despite this inspiring participation, the movement for women education faced severe opposition when formal girls’ schools were proposed. Resistance came not only from conservative religious circles but also from educated elites and institutional authorities. This contradiction highlights a painful historical injustice: women were welcomed as donors but resisted as learners.
Dr. Rahat Abrar’s work revives this forgotten chapter, proving that Muslim women were never passive observers. They were active contributors, financial supporters, and ideological allies of educational reform.
A Living Legacy for the Present
The history of women education is not an imported modern idea but a continuation of indigenous religious, cultural, and intellectual traditions. This legacy reminds us that empowering women through education is deeply rooted in our own history. Revisiting this past is not an academic exercise—it is a call to reclaim a lost consciousness and move forward with renewed clarity.
If you’re interested in reading this book, click the link below for a free download.
https://drive.google.com/file/d/1EJpGQKsMeOZMPkwsz6cfpug579hnvkHu/view?usp=sharing
If you’d like to listen to this book in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the audiobook.
You can also watch the same video on these social media platforms.
اسلام ایک ایسا دین ہے جو علم کو مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں طور پر ضروری قرار دیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں تعلیم کو فریضہ قرار دے کر دراصل انسانی شخصیت کی تکمیل پر زور دیا گیا ہے، اور چونکہ عورت خاندان اور معاشرے کی پہلی معلمہ ہوتی ہے، اس لیے اسلام نے اس کی تعلیم و تربیت کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ اسی اسلامی فکر کے زیرِ اثر برصغیر میں مسلمانانِ ہند نے ماقبلِ آزادی ہی سے خواتین کی تعلیم کے لیے سنجیدہ اور منظم کوششیں شروع کر دیں۔ ان کوششوں میں جن اکابرین کے نام نمایاں نظر آتے ہیں، ان میں ڈپٹی نذیر احمداور سر سید احمد خان سرفہرست ہیں، جنہوں نے نہ صرف نظری سطح پر بلکہ عملی میدان میں بھی تعلیمِ نسواں کی حمایت کی۔ اسی تاریخی جدوجہد کو ایک مربوط اور تحقیقی شکل میں محفوظ کرنے کا اہم کام ڈاکٹر راحت ابرار نے انجام دیا ہے، جن کی تصنیف “مسلم تعلیمِ نسواں کے سو سال”اس موضوع پر ایک مبسوط اور مستند کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر راحت ابرار ہندوستان کے شہر علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے ایک ممتاز محقق، مصنف اور ادبی دانشور ہیں۔ ان کا شمار اُن اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو ادب، مسلم سماجی تاریخ اور تعلیمی تحریکات پر نہایت سنجیدہ اور تحقیقی کام کیا ہے۔ خصوصاً مسلمانانِ ہند کی تعلیمی جدوجہد، علی گڑھ تحریک اور خواتین کی تعلیم جیسے موضوعات ان کی تحریروں کا مرکزی حوالہ ہیں۔ ڈاکٹر راحت ابرار کی تحریروں کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ محض واقعات بیان نہیں کرتے بلکہ تاریخی دستاویزات، اخبارات، کتبوں اور نادر حوالہ جاتی مواد کی روشنی میں ایک پورا سماجی منظرنامہ قاری کے سامنے رکھ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا کام علمی حلقوں میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
“مسلم تعلیمِ نسواں کے سو سال (چلمن سے چاند تک)”ڈاکٹر راحت ابرار کی ایک تحقیقی اور تاریخی تصنیف ہے جس میں مسلمان عورتوں کی تعلیم کے تقریباً ایک صدی پر محیط سفر کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح مسلم خواتین نے روایتی پردے، سماجی پابندیوں اور ذہنی مزاحمتوں کے باوجود تعلیم کے میدان میں قدم رکھا، مشکلات کا سامنا کیا اور بتدریج علمی خود اعتمادی حاصل کی۔
“چلمن سے چاند تک” کا استعارہ دراصل اس سفر کی علامت ہے جو محدود گھریلو دائرے سے نکل کر تعلیمی اور فکری افق تک پہنچتا ہے۔ مصنف نے اس پورے عمل میں کارفرما سماجی، مذہبی، سیاسی اور تہذیبی عوامل کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ تعلیمِ نسواں کی تحریک محض خواتین کی جدوجہد نہیں تھی بلکہ اس میں مرد مصلحین، ادارے اور معاشرتی شعور بھی شامل تھا۔
کتاب کے ایک اہم باب “علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیمِ نسواں” کا اقتباس آوازِاردو نے اپنی ویڈیو میں پڑھ کر سنایا ہے۔ اس اقتباس میں ڈاکٹر راحت ابرار ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ کا ایک ایسا پہلو سامنے لاتے ہیں جو عموماً نگاہوں سے اوجھل رہا ہے، یعنی اس عظیم ادارے کے قیام اور استحکام میں خواتین کا غیر معمولی اور فیصلہ کن کردار۔
مصنف بتاتے ہیں کہ اگر علی گڑھ کی تاریخ کو صنفی تعصب سے ہٹ کر دیکھا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح نمایاں ہو جاتی ہے کہ یونیورسٹی کے لیے چندہ فراہم کرنے میں ہندوستان بھر کی خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہ خواتین صرف مسلمان ہی نہیں تھیں بلکہ غیر مسلم رئیس خواتین بھی اس کارِ خیر میں شریک تھیں۔ انہوں نے تعلیم کو محض ایک مذہبی یا علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی اور انسانی ضرورت سمجھ کر اس کی سرپرستی کی۔
علی گڑھ کی تاریخی عمارتوں پر نصب کتبے اور علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ میں شائع عطیہ دہندگان کی فہرستیں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ اس تعلیمی خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش کی۔ مصنف خاص طور پر اس پہلو کو اجاگر کرتے ہیں کہ ان خواتین نے صرف نقد رقم ہی عطیہ نہیں کی بلکہ اپنے ذاتی زیورات تک تعلیم کی راہ میں نذر کر دیے، تاکہ مسلمان نوجوان جدید علوم سے آراستہ ہو سکیں۔ سر سید کے دور میں تعمیر ہونے والی کئی عمارتیں دراصل انہی قربانیوں کا نتیجہ تھیں، اور آج بھی ان عمارتوں کے کتبوں پر خواتین کے نام ان کی سخاوت کی یاد دلاتے ہیں۔
ایم اے او کالج کی باؤنڈری وال کا ذکر کرتے ہوئے مصنف ایک نہایت بلیغ تشبیہ نقل کرتے ہیں کہ یہ جالی دار دیوار اس بات کی علامت ہے جیسے لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کالج کے گرد حصار بنائے کھڑے ہوں تاکہ اسے کسی آفت سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس علامتی حصار میں شامل ہاتھوں میں کئی خواتین کے ہاتھ بھی تھے، جو اس اجتماعی شعور کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ڈاکٹر راحت ابرار، سر سید احمد خان کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ سر سید کی دلی خواہش تھی کہ ہندوستانی عورتوں کے نام بھی مدرسۃ العلوم کے مددگاروں میں شامل ہوں۔ سر سید کے نزدیک یہ محض مالی تعاون کا معاملہ نہیں تھا بلکہ وہ اسے اس بات کی علامت سمجھتے تھے کہ جب عورتیں تعلیم کی قدر کرنے لگیں گی تو قوم کی فکری بنیاد مضبوط ہو جائے گی۔ انہوں نے رئیس اور مہارانی خواتین کے عطیات کا ذکر فخر کے ساتھ کیا اور یہ امید ظاہر کی کہ ان کے نام تعلیمی عمارتوں پر کندہ ہو کر آنے والی نسلوں کے لیے باعثِ تحریک بنیں گے۔
مصنف نواب شمس الجہاں بیگم کے اعزاز میں منعقد ہونے والی استقبالیہ تقریب اور ان کے خطاب کا ذکر بھی تفصیل سے کرتے ہیں، جس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس دور کی بعض بااثر خواتین نہ صرف مالی سرپرستی کر رہی تھیں بلکہ تعلیمِ نسواں کی فکری و عملی وکالت بھی کر رہی تھیں۔
اسی کے ساتھ مصنف یہ بھی بتاتے ہیں کہ علی گڑھ کی تحریک میں صرف امیر خواتین نہیں بلکہ غریب عورتیں بھی شامل تھیں، جنہوں نے چپاتیاں، معمولی سکے، بالیاں اور انگوٹھیاں دے کر اپنی وابستگی ظاہر کی۔ بعد میں باقاعدہ زنانہ فنڈ کا قیام بھی عمل میں آیا، جو اس اجتماعی شعور کی واضح مثال ہے۔
اس پورے روشن منظرنامے کے باوجود ایک تلخ حقیقت یہ بھی سامنے آتی ہے کہ جب لڑکیوں کے لیے باقاعدہ اسکول قائم کرنے کی بات ہوئی تو شدید مخالفت شروع ہو گئی۔ یہ مخالفت صرف قدامت پسند مذہبی حلقوں تک محدود نہیں تھی بلکہ بعض جدید تعلیم یافتہ افراد اور ادارہ جاتی ذمہ داران بھی اس کے خلاف کھڑے نظر آئے۔
ڈاکٹر راحت ابرار کا یہ مضمون دراصل تاریخ کے ایک فراموش شدہ باب کو زندہ کرتا ہے۔ وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ علی گڑھ جیسی عظیم تعلیمی تحریک میں مسلم خواتین محض پس منظر کا کردار نہیں تھیں بلکہ وہ فکری، مالی اور عملی سطح پر اس تحریک کی مضبوط ستون تھیں۔ اس کے باوجود تعلیمِ نسواں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ایک ایسی تاریخی ناانصافی ہے جس کی نشان دہی ضروری تھی۔
یہ مضمون ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ مسلم خواتین کی تعلیمی جدوجہد کوئی نئی یا درآمد شدہ فکر نہیں بلکہ ہماری اپنی تاریخ، تہذیب اور دینی شعور کا تسلسل ہے—اور یہی شعور آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ بن سکتا ہے۔