Hobson-Jobson Dictionary: Forgotten Yet Brilliant Power of Words

Hobson-Jobson dictionary occupies a unique and powerful position in the intellectual history of lexicography, particularly when viewed through the scholarly lens of modern Urdu linguistic studies. Rather than merely an old dictionary, this work emerges as a living document of linguistic exchange, cultural contact, and historical transformation. Its true significance becomes clearer when examined in the context of Urdu lexicographical thought, especially as presented in “Lughat Nawisi aur Lughat”, compiled by Rauf Parekh. (Information about Rauf Parekh is available in our other blog, “Book Reviews in Urdu – Lost Passion or Literary Revival?“)

Lexicography as an Intellectual Discipline

In his book, Rauf Parekh emphasises that lexicography is not simply the collection of words but a systematic scholarly process that records spelling, pronunciation, origin, semantic development, and cultural usage. Dictionaries, therefore, serve as intellectual archives preserving the historical and civilizational journey of a language. This conceptual framework provides the foundation for understanding the Hobson-Jobson dictionary as a serious academic achievement rather than a colonial curiosity.

Agha Iftikhar Hussain’s Scholarly Contribution

Within “Lughat Nawisi aur Lugha”, an important research article, Agha Iftikhar Hussain examines the historical and linguistic value of Hobson-Jobson. His essay highlights that the earliest attempts at compiling Urdu dictionaries date back to the seventeenth century, yet Hobson-Jobson stands apart due to its methodological depth and historical documentation of word origins.

Agha Iftikhar Hussain points out that this dictionary is perhaps the first of its kind to trace the etymology of Indo-Urdu words through documented evidence rather than conjecture. This approach marks a turning point in lexicographical practice.

Origins of the Hobson-Jobson Dictionary

The Hobson-Jobson dictionary was jointly compiled by Henry Yule and Arthur Coke Burnell. While both scholars contributed significantly, Agha Iftikhar Hussain notes that Yule played the dominant role in shaping the book’s structure, research methodology, and analytical depth.

The dictionary documents words that entered English through sustained contact with South Asian languages during trade, governance, and cultural interaction. Unlike conventional glossaries, it supports each entry with historical citations drawn from Eastern and Western sources spanning nearly two thousand years.

Linguistic Exchange and Cultural History

What makes the Hobson-Jobson dictionary particularly valuable is its ability to demonstrate how languages influence one another. Words relating to administration, flora, fauna, food, and daily life travelled from Urdu, Hindi, Persian, and Arabic into European languages and, in some cases, returned in altered forms. This process illustrates linguistic evolution as a consequence of historical interaction rather than linguistic purity.

Agha Iftikhar Hussain observes that the dictionary also documents Portuguese influences on Urdu vocabulary, reminding readers that colonial linguistic exchange was not limited to English alone.

Scholarly Neglect and Its Consequences

Despite its immense academic value, Hobson-Jobson has not received adequate attention from South Asian scholars. Rauf Parekh’s inclusion of this discussion in Lughat Nawisi aur Lughat serves as a corrective effort, encouraging linguists and literary critics to revisit this foundational work. Critical engagement with its etymological theories could significantly advance Urdu linguistics.

Contemporary Relevance of Hobson-Jobson

In the modern era of digital dictionaries, the Hobson-Jobson dictionary remains relevant because it teaches how words carry history, power, and cultural memory. It provides a model for evidence-based lexicography that contemporary scholars can still learn from.

Conclusion

Viewed through the scholarly insights of Rauf Parekh and the research of Agha Iftikhar Hussain, the Hobson-Jobson dictionary emerges as a forgotten yet brilliant monument of linguistic scholarship. It is not merely a dictionary but a comprehensive record of human interaction, cultural exchange, and the historical evolution of language, making it an indispensable resource for students of lexicography, Urdu studies, and linguistic history.

If you’re interested in reading this book, “Lughat Nawisi aur Lughat” click the link below for a free download.

https://drive.google.com/file/d/1r4ZGEvXkuihtYdH3wYeHHeOZ82r3BqUH/view?usp=sharing

If you’d like to listen to this book in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the audiobook.

You can also watch the same video on these social media platforms.

لغت نویسی کسی بھی زبان کے الفاظ کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ جمع کرنے اور ان کے املا، تلفظ، ماخذ اور مادّے کو بیان کرتے ہوئے ان کے حقیقی، مجازی یا اصطلاحی معنی درج کرنے کا نام ہے۔ اس عمل میں ضرورت کے مطابق الفاظ کی مختلف شکلوں، ان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے صحیح محلِ استعمال کی بھی وضاحت کی جاتی ہے۔ گویا لغت نویسی محض الفاظ کی فہرست مرتب کرنے کا نام نہیں، بلکہ زبان کی تاریخ، اس کے ارتقا اور تہذیبی پس منظر کو محفوظ کرنے کا ایک اہم علمی عمل ہے۔

لغت نویسی کی بنیادی طور پر دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ جب دو مختلف زبانوں کے بولنے والے افراد، گروہ یا اقوام زندگی کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرتی ہیں تو انہیں ایک دوسرے کی زبان کے الفاظ سیکھنے اور استعمال کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تعلقات کے استحکام، وسعت اور ہمہ گیری کے ساتھ ساتھ ذخیرۂ الفاظ میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے اور رفتہ رفتہ ایک زبان کے الفاظ دوسری زبان میں داخل ہو جاتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب کسی قوم کا ادب ارتقائی مراحل طے کرتا ہے تو اس سفر کے دوران الفاظ کی شکلیں اور ان کے معانی بدلتے رہتے ہیں۔ ادبی نقاد اور ماہرینِ لسانیات ان تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہیں اور استعمال کی نوعیت کے مطابق الفاظ کی نئی تعبیرات اور توضیحات متعین کرتے ہیں۔

لغت نویسی کے اسی اہم موضوع پر معروف محقق، لغت نویس اور ماہرِ لسانیات ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے’’لغت نویسی اور لغات‘‘کے عنوان سے ایک اہم کتاب مرتب کی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے لغت نویسی سے متعلق مختلف اہلِ علم کے تحقیقی اور تنقیدی مضامین کو یکجا کیا ہے، ان کی تدوین کی ہے اور متعدد مقامات پر مفید اضافے بھی کیے ہیں۔ اردو میں یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب ہے، کیونکہ اس سے قبل لغت نویسی جیسے تخصصی موضوع پر اس انداز سے کوئی جامع تصنیف مرتب نہیں کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب ایم اے اور ایم فل کی سطح پر بھی بطورِ درسی معاون متن اہمیت رکھتی ہے۔ اس کا اسلوب نہایت سادہ، رواں اور عام فہم ہے، جس کی وجہ سے ایک عام قاری بھی اس نسبتاً پیچیدہ موضوع کو بآسانی سمجھ سکتا ہے۔

اسی کتاب میں آغا افتخار حسین کا ایک نہایت معلومات افزا مضمون’’کرنل سر ہنری یول اور اس کی اردو فرہنگ ’ہابسن جابسن‘‘‘شامل ہے، جس کا ایک اقتباس آوازِ اردو کی ایک ویڈیو میں بھی پڑھ کر سنایا گیا ہے۔ اس مضمون میں آغا افتخار حسین بیان کرتے ہیں کہ اردو زبان کی سب سے پہلی لغت سترھویں صدی میں ایک فرانسیسی مشنری، فرانسسکو ماریا دی تور، نے مرتب کی تھی۔ اس کے بعد اردو کی متعدد لغات شائع ہوئیں، لیکن کرنل سر ہنری یول کی تصنیف’’ہابسن جابسن‘‘اشتقاق اور الفاظ کے تاریخی ارتقا کے اعتبار سے غالباً اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد کتاب ہے۔ بلکہ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ الفاظ کے ماخذ، ان کی صوتی اور معنوی تبدیلیوں اور ان کے تاریخی سفر پر جس انداز سے اس کتاب میں مواد جمع کیا گیا ہے، اس کی مثال اردو میں بہت کم ملتی ہے۔

اس فرہنگ میں اردو، ہندی اور برصغیر کی دیگر زبانوں کے وہ الفاظ شامل کیے گئے ہیں جو انگریزوں اور دوسری مغربی قوموں کے برصغیر کے ساتھ تجارتی، سیاسی اور تہذیبی روابط کے نتیجے میں مغربی زبانوں میں داخل ہوئے، یا پھر مغربی زبانوں سے اردو اور ہندی میں آئے۔ تقریباً آٹھ سو ستر صفحات پر مشتمل اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے مؤلفین نے محض الفاظ کے اشتقاق پر اظہارِ خیال نہیں کیا بلکہ اپنی آرا کے ثبوت میں مشرقی اور مغربی زبانوں کی متعدد قدیم و جدید تحریروں سے شواہد بھی فراہم کیے ہیں۔ ان حوالوں کے ساتھ درج تاریخوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تحقیق کے لیے انگریزی، فرانسیسی، پرتگیزی، ولندیزی، یونانی، عربی، فارسی، سنسکرت اور دیگر زبانوں کے تقریباً دو ہزار سالہ ادبی و تاریخی ذخیرے سے استفادہ کیا گیا ہے۔

آغا افتخار حسین اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ اس عظیم تحقیقی کارنامے کی جانب برصغیر کے اہلِ علم نے اب تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ ان کے نزدیک اگر ماہرینِ لسانیات اس کتاب میں پیش کیے گئے نظریاتِ اشتقاق سے استفادہ کریں یا ان پر تنقیدی نظر ڈالیں تو زبان و ادب کی بہت بڑی خدمت انجام دی جا سکتی ہے۔

’’ہابسن جابسن‘‘ دو مؤلفین، کرنل سر ہنری یول اور آرتھر کوک برنیل، کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے۔ تاہم الفاظ کی تحقیق، کتاب کے بنیادی خدوخال، دیباچے اور مقدمے کی ترتیب میں زیادہ تر حصہ ہنری یول ہی کا تھا۔ ہنری یول ۱۸۲۰ء میں برطانیہ کے شہر ایڈنبرا کے قریب واقع مقام اِنورسک میں پیدا ہوا۔ اس کے والد میجر ولیم یول ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت میں تھے اور عربی و فارسی زبانوں پر گہری دسترس رکھتے تھے۔ ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد وہ متعدد عربی اور فارسی مخطوطات اپنے ساتھ انگلستان لے گئے، جو آج بھی برٹش میوزیم میں محفوظ ہیں۔ انہوں نے ۱۸۳۲ء میں

 Apophthegms of Ali the Son of Abu Talib

 کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی، جس میں عربی متن، اس کا قدیم فارسی ترجمہ اور انگریزی ترجمہ شامل تھا۔

ہنری یول نے ابتدائی تعلیم ایڈنبرا اور اعلیٰ تعلیم جامعہ کیمبرج سے حاصل کی۔ ریاضی اور انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ۱۸۴۰ء میں بنگال انجینئرز کی سروس میں شامل ہوا اور ہندوستان آیا۔ اس نے شمال مغربی سرحدی صوبے کے محکمۂ نہر میں بطور انجینئر خدمات انجام دیں اور سکھوں کی جنگوں میں بھی حصہ لیا۔ کچھ عرصہ انگلستان میں قیام کے دوران اس نے فوجی اکیڈمی میں لیکچر دیے اور متعدد علمی مقالات تحریر کیے، پھر دوبارہ ہندوستان واپس آ گیا، جہاں ۱۸۵۵ء میں اسے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی نے محکمۂ تعمیرات میں انڈر سیکرٹری مقرر کیا۔ بعد ازاں وہ ایک سفارتی مشن کے سلسلے میں برما بھی گیا اور وہاں سے واپسی پر برما سے متعلق ایک تحقیقی مقالہ تحریر کیا جو بہت مقبول ہوا۔ بالآخر ۱۸۶۲ء میں وہ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یول کی سب سے زیادہ ثمرآور علمی زندگی اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد شروع ہوئی۔ ۱۸۶۳ء میں اس نے سسلی کے دارالحکومت پالرمو میں سکونت اختیار کی، جہاں اس نے قدیم اطالوی مشنریوں اور سیاحوں کے سفرناموں اور تاریخی کتابوں کا گہرا مطالعہ کیا۔ اسی سال اس نے

 Mirabilia Descripta

 کے نام سے ایک کتاب شائع کی۔ ۱۸۶۶ء میں اس نے قدیم سیاحوں کے سفرناموں، خطوط اور یادداشتوں پر مشتمل ایک اہم تصنیف دو جلدوں میں شائع کی، جس میں ایشیا اور چین کے بارے میں معلومات کا گراں قدر ذخیرہ پیش کیا گیا۔ بعد ازاں اس کی مشہور فرہنگ **’’ہابسن جابسن‘‘** شائع ہوئی، جس کے بعد اس کے مزید ایڈیشن بھی منظرِ عام پر آئے۔

۱۸۷۱ء میں یول نے مارکو پولو کے مشہور سفرنامے کا مستند ایڈیشن مرتب کیا، جس پر اسے اٹلی کی جغرافیائی سوسائٹی کا اعزازی تمغہ ملا، جبکہ رائل جغرافیائی سوسائٹی نے بھی اسے اپنے اعلیٰ اعزاز سے نوازا۔ ۱۸۷۵ء میں وہ واپس انگلستان آ گیا اور انڈین کونسل کا رکن مقرر ہوا۔ ۱۸۸۷ء میں اس نے

 Diary of Sir William Hedges

 شائع کی، جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی ابتدائی تاریخ سے متعلق اہم معلومات درج ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے تحقیقی مضامین انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا اور مختلف علمی جرائد میں بھی شائع ہوتے رہے۔ ۱۸۸۸ء میں اس نے مشرقی تبت اور برما کے دریاؤں پر ایک اہم مقالہ تحریر کیا اور ۱۸۸۹ء میں اسے ’’سر‘‘ کا خطاب اور ستارۂ ہند کا اعزاز عطا کیا گیا۔ اسی سال اس کا انتقال ہو گیا۔

جہاں تک ’’ہابسن جابسن‘‘ کا تعلق ہے تو جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، یہ ان الفاظ، محاورات اور اصطلاحات کی فرہنگ ہے جو ہندوستان میں انگریزوں کی بول چال میں رائج ہو چکے تھے۔ تاہم مصنفین نے صرف ان کے معنی اور محلِ استعمال پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ تاریخ، جغرافیہ، تہذیب اور علمِ لسانیات کے مختلف پہلوؤں سے ان پر عالمانہ بحث بھی کی ہے۔ کتاب کے ابتدائی صفحات میں یول نے اسے اپنے مرحوم بھائی کے نام معنون کیا ہے اور ایک مختصر دیباچے میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اس کتاب کی بنیاد دراصل وہ خط و کتابت تھی جو اس کے اور اس کے دوست آرتھر کوک برنیل کے درمیان پالرمو اور مدراس کے دوران جاری رہی۔ ۱۸۷۲ء میں انڈیا آفس لائبریری میں ملاقات کے بعد دونوں نے ہند الاصل الفاظ کی تحقیق کا مشترکہ منصوبہ بنایا اور برنیل کی وفات تک یہ علمی تعاون جاری رہا۔ برنیل کے انتقال کے بعد یول نے تنہا اس عظیم فرہنگ کو مکمل کیا۔

کتاب کے مفصل مقدمے میں یول ان ہندوستانی الاصل الفاظ کی تاریخ بیان کرتا ہے جو ملکہ الزبتھ اول اور شاہ جیمز اول کے عہد سے انگریزی زبان میں داخل ہونا شروع ہوئے اور وقت کے ساتھ اس کا حصہ بنتے چلے گئے۔ اس نے متعدد مثالوں کے ذریعے واضح کیا ہے کہ کس طرح ایک زبان کا لفظ دوسری زبان میں داخل ہو کر اپنی صوتی اور معنوی ساخت بدل لیتا ہے۔ مثال کے طور پر انگریزی محاورہ

 “I don’t care a dam”

 کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ یہاں

 Dam

دراصل عہدِ اکبری کے سکے ’’دام‘‘ سے ماخوذ ہے۔ اسی طرح وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ نباتات، حیوانات، انتظامی امور اور روزمرہ زندگی سے متعلق بہت سے الفاظ ہندوستان سے یورپی زبانوں میں منتقل ہوئے۔ اس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بعض الفاظ عرب تاجروں، پرتگیزی مہم جوؤں اور دیگر مغربی اقوام کے ذریعے ایک تہذیب سے دوسری تہذیب تک پہنچے اور یوں مختلف زبانوں کا حصہ بنتے گئے۔ اس کے نزدیک

 palanquin، curry، mango، typhoon اور monsoon

 جیسے الفاظ اسی لسانی اور تہذیبی تبادلے کی نمایاں مثالیں ہیں، جبکہ پرتگیزی زبان سے اردو میں آنے والے الفاظ میں بائی، تولیہ، صابن اور نیلام جیسے الفاظ شامل ہیں۔

درحقیقت **’’ہابسن جابسن‘‘** صرف ایک لغت یا فرہنگ نہیں، بلکہ لسانی، تاریخی اور تہذیبی تحقیق کا ایک اہم ماخذ ہے۔ اس میں نہ صرف الفاظ کے معنی اور اشتقاق کو محفوظ کیا گیا ہے بلکہ مختلف اقوام کے باہمی روابط، تجارتی تعلقات، ثقافتی میل جول اور سیاسی اثرات کے نتیجے میں زبانوں کے ارتقا کی ایک جامع تصویر بھی پیش کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب لغت نویسی کے ساتھ ساتھ تاریخ، جغرافیہ اور علمِ لسانیات کے طلبہ اور محققین کے لیے بھی یکساں اہمیت رکھتی ہے۔

آغا افتخار حسین کے مطابق اس عظیم تحقیقی کارنامے کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ ابھی تک برصغیر کے اہلِ علم پوری طرح نہیں کر سکے۔ اگر زبان و ادب کے ماہرین اس کتاب میں پیش کیے گئے نظریاتِ اشتقاق سے استفادہ کریں یا ان پر علمی و تنقیدی بحث کو آگے بڑھائیں تو نہ صرف اردو لسانیات کے کئی پیچیدہ مسائل کی وضاحت ہو سکتی ہے بلکہ برصغیر اور مغرب کے تہذیبی و لسانی روابط کے مطالعے میں بھی نئی جہتیں سامنے آ سکتی ہیں۔ اس اعتبار سے ’’ہابسن جابسن‘‘ محض ایک فرہنگ نہیں، بلکہ زبانوں کی مشترکہ تہذیبی تاریخ اور انسانی روابط کی ایک زندہ دستاویز ہے۔

Leave a Comment