Ghalib and Goethe have become symbols of literary brilliance and intellectual authority. In Haji Laq Laq’s satirical story, these names are cleverly used to reveal how appearance, confidence, and public perception often outweigh actual knowledge. This story is included in the anthology Azaadi Ke Baad Urdu Tanz-o-Mazah, edited by Abul Kalam Qasmi, which collects post-partition Urdu humour and satire from the subcontinent.
Through this humorous narrative, Haji Laq Laq exposes the art of intellectual deception, showing that even the unlearned or semi-literate can appear scholarly if they master the right performance.
Haji Laq Laq: The Master of Satire
Haji Laq Laq, whose real name was Ata Muhammad Chishti, was a renowned journalist, humorist, poet, and columnist in early 20th-century Urdu literature. Writing for major newspapers and journals, he highlighted social and literary issues with wit, satire, and engaging prose. His work often illustrated the gap between reality and perception, a theme central to the story of Ghalib and Goethe.
The Story: A Punjabi Scholar in Berlin
The story revolves around Mirza Kazim in Berlin and a Punjabi Sikh, Pretam Singh, who wants to travel to Italy but lacks funds. Mirza devises a surprising plan:
- Pretam will give a lecture on Ghalib and Goethe.
- Germans will buy tickets, applaud him, and financially reward him.
The problem? Pretam knows nothing of German, Ghalib’s poetry, or Goethe’s philosophy. Mirza’s instructions are simple:
“Speak confidently. Say anything. Every few sentences, thunder: ‘Ghalib and Goethe!’”
This is the foundation of the story’s intellectual deception.
The Lecture: Confidence Over Knowledge
On the lecture day, the hall is packed with German intellectuals, students, and journalists. Pretam begins with unrelated topics:
- Chandni Chowk and Delhi streets
- Fertile lands of Lahore
- Local fruits and folklore
- Cultural references
Amid these, he repeatedly shouts: “Ghalib and Goethe!”
The audience, unable to understand Urdu or Punjabi, assumes a deep literary analysis is unfolding. Even when he recites Punjabi folk songs as Ghalib’s poetry, the audience is impressed. The combination of strong gestures, commanding tone, and apparent authority creates an illusion of profound scholarship. By the end, the audience gives standing ovations, and Pretam receives generous financial rewards.
Lessons from Ghalib and Goethe
This satirical tale is more than humor; it provides timeless lessons:
- Confidence Can Overshadow Knowledge – Bold delivery often convinces people more than facts.
- Power of Renowned Names – Repeating the names of Ghalib and Goethe lends credibility, regardless of the content.
- Style Trumps Substance – Passion and performance impress more than actual expertise.
- Pretension Can Mimic Scholarship – Societal perception often values appearance over authenticity.
Relevance in Today’s World
In today’s era of social media “experts,” motivational speakers, and influencers, the story of Ghalib and Goethe is more relevant than ever. People continue to reward presentation over substance, confidence over competence, and spectacle over genuine knowledge.
Haji Laq Laq’s satire reminds us that intellectual deception is not new—it is timeless, humorous, and strikingly accurate.
If you’re interested in reading this Essay online, click the link below.
https://www.rekhta.org/tanz-o-mazah/ghalib-and-goete-haji-laq-laq-tanz-o-mazah?lang=ur
If you’d like to listen to this book in audio format, click the CONTACT button below to get in touch with the AwazeUrdu team to order the audiobook.
You can also watch the same video on these social media platforms.
Enjoyed “Funny Horse Riding Story – From Dream to Disaster” You can listen to another brilliant satirical piece by Haji Laq Laq on AwazeUrdu, titled “Ghalib and Goethe: A Shocking Tale of Intellectual Deception”. Click the link to experience his wit and timeless humor firsthand!
مثل مشہور ہے کہ جب تک بےوقوف زندہ ہیں، عقل مند بھوکا نہیں مرسکتا۔ کیوں کہ دراصل بےوقوف ہی ان کےلیے سامانِ عیش وطرب مہیا کرتے ہیں۔ اور بے وقوف کون ہوتے ہیں۔ جیسا کہ عطاءاللہ چشتی المعروف حاجی لق لق نے اپنی ایک کہانی نما مضمون میں واضح کیاہے کہ بےوقوف ہونےکےلیے کسی خاص رنگ ونسل سے تعلق رکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا، بلکہ ہر وہ شخص، جو بغیر سوچے سمجھے کوئی عمل کرتاہے، دراصل بےوقوف ہوتاہے۔ اس مضمون میں ہم حاجی لق لق کی اسی کہانی اور اس سے حاصل کردہ اسباق پر گفتگو کریں گے۔ مگر پہلے مصنف کےبارے میں جان لیجیے
حاجی لق لق جن کا اصل نام عطا محمد چشتی ہے
اُردو کے مشہور صحافی، کالم نگار، مزاح نگار اور شاعر تھے جنہوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں مزاح، طنز اور ادبی تحریروں کے ذریعے اپنے دور کے سماجی و ادبی مسائل کو اپنی منفرد زبان میں پیش کیا۔ اُن کا قلمی نام حاجی لق لق ان کی مزاحیہ تحریروں کے ساتھ مشہور ہوا، اور وہ زمیندار، احسان، شہباز جیسے بڑے اخبارات و رسائل کے لیے لکھتے رہے، اور چند کتب و مجموعے بھی شائع ہوئے۔ اُن کی شاعری اور افسانے آسان، دل نشین اور عوامی موضوعات پر مبنی تھے، مگر زندگی کے آخری ایام وہ مالی مشکلات میں گزارے اور 27 ستمبر 1961ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔
حاجی لق لق کا مضمون “غالب اینڈ گوئٹے” جناب ابوالکلام قاسمی نے قومی کونسل برائے فروغِ اردوزبان کے تحت چھپنے والی کتاب “آزادی کےبعد اردوطنزومزاح” میں شامل کیاہے۔ یہ کتاب ہندوستان سے “بھارت ، بھارتی سیریز کےتحت شائع کی گئی، جس میں اردورسم الخط کے ساتھ ہندی /دیوناگری رسم الخط میں بھی 35 مضامین جمع کیےگئے ہیں۔ یہ برصغیر پاک وہند کے اردو مزاح نگاروں کے تقسیمِ ہند کےبعد تحریرکردہ مضامین ہیں۔ ایک طرف اردو،جبکہ اس کےسامنے ہندی رسم الخط تحریر کیا گیاہے۔ اس لحاظ سے یہ ہردوزبانیں پڑھنےوالوں کےلیے ایک عمدہ کاوش ہے۔
آوازِاردونےاس کتاب سے حاجی لق لق کا مضمون” غالب اینڈ گوئٹے” اپنی ویڈیو میں پڑھ کرسنایاہے جس میں مصنف نےایک فرضی کہانی تحریر کی ہے،جس کے ذریعے وہ دکھانا چاہتے ہیں کہ
دانشورانہ موضوعات، خاص طور پر ادب و فلسفہ، عام آدمی کے لیے اکثر ایک “ڈھکوسلا” بن جاتے ہیں۔
اگر اظہار کا انداز پُراعتماد ہو، زبان برجستہ ہو، اور اس کے ساتھ مجمع کو مرعوب کرنے کی صلاحیت ہو…
تو بالکل انجان، اَن پڑھ یا نیم خواندہ شخص بھی بڑے بڑے فلاسفروں اور شاعروں پر لیکچر دے کر سامعین کو بے وقوف بنا سکتا ہے۔
مزاح کے پیرائے میں مصنف یہ بھی دکھاتے ہیں کہ:
ادبی دنیا میں نام و رتبے کا کھیل اکثر ظاہرداری پر چلتا ہے۔
یورپی سامعین ایشیائی شخص کو “پروفیسر” سمجھتے ہی اس کے آگے سر جھکا دیتے ہیں، خواہ اسے کچھ بھی نہ آتا ہو۔
اور سب سے اہم بات: زبان اور فکر سے زیادہ “اعتماد” اکثر زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
یہ کہانی،جو ایک عمومی رویے کی نشاندہی کرتی ہے، کچھ اس طرح ہے کہ
مرزا کاظم، جو برلن(جرمنی) میں رہتے تھے۔ ایک روز ان کی ملاقات ایک پنجابی سکھ سردار پرتیم سنگھ سے ہوئی۔ سردار جی اٹلی جانا چاہتے تھے مگر جیب خالی تھی۔ انہوں نے مرزا صاحب سے قرض مانگا، لیکن مرزا نے صاف کہا کہ
یہاں کوئی ہندوستانی دوسرے کو قرض نہیں دے سکتا۔
سردار جی مایوس ہوئے تو مرزا نے ایک عجیب مگر دلچسپ ترکیب بتائی:
جرمنوں سے پیسہ حاصل کرو — بہت آسان ہے۔
سردارجی نے حیران ہوکر اس کا طریقہ پوچھا۔
مرزا نے کہا کہ اتوار کو “ہومبرگ ہال” میں تم “غالب اینڈ گوئٹے” کےموضوع پر ایک زبردست علمی تقریر کرو گے۔
جرمن ٹکٹ خرید کر آئیں گے، تعریف بھی کریں گے، پیسے بھی ملیں گے۔
سردار جی نے گھبرا کر کہا:
کہ نہ مجھے جرمن زبان آتی ہے
نہ غالب کی شاعری کا پتہ
نہ گوئٹے کی ادبی حیثیت کےبارے میں کچھ معلوم۔
“مرزابولے کہ بس بولتے جانا۔ ہر تین چار جملوں بعد کہہ دینا: غالب انڈ گوئٹے۔
بس یہی تمہارا علمی جوہر ہوگا۔”
پھر انہوں نے برلن کے اخبارات میں اعلان شائع کروا دیا کہ:
“ہندوستان کے عظیم اسکالر پروفیسر پرتیم سنگھ ‘غالب اور گوئٹے’ کےموضوع پر لیکچر دیں گے۔”
تقریر کے دن ہال جرمن ادیبوں، فلاسفروں، طلبہ اور اخبار نویسوں سے بھرا ہوا تھا۔
سردار جی اسٹیج پر آئے اور وہی شروع ہوگئے جو انہیں آتا تھا:
یعنی دہلی کا چاندنی چوک،
لاہور کی زرخیز زمین،
بارشیں،
رنجیت سنگھ کی سمادھی،
قصور کی میتھی،
چمیاری کے خربوزے،
اور درمیان میں بار بار بجلی کی طرح:
غالب انڈ گوئٹے! غالب انڈ گوئٹےکہتے جاتے تھے۔!!
جرمن لوگ سمجھے کہ بھاری فلسفیانہ گفتگو ہو رہی ہے۔
تالیوں سے ہال گونجتا رہا۔
پھر سردار جی نے “غالب کے اشعار” سنائے…
جو دراصل پنجابی لوک گیت تھے!
جرمن خوشی سے پاگل ہوکرتالیاں بجائے جا رہے تھے۔
آخر میں سردار جی نے “مثلث” بھی سنائی۔:
ہال کھڑا ہوگیا، داد دی گئی، تعریفیں ہوئیں، اور مرزا کاظم نے جرمن زبان میں اعلان کیا کہ:
“پروفیسر صاحب کی یہ عظیم ادبی تحقیق برلن کے اخبارات میں ترجمے کے ساتھ شائع کی جائے گی۔”
نتیجہ؟
سردار پرتیم سنگھ کی “علمی عظمت” کے چرچے برلن بھر میں ہوگئے
حاضرین نے پیسے نچھاور کیے
سردار اور مرزا دونوں کی جیبیں نوٹوں سے بھر گئیں
اسی رات سردار جی اٹلی روانہ کر دیے گئے
سردار جی نے جرمنوں کو کیسے بے وقوف بنایا؟
اصل “چالاکی” صرف تین چیزوں پر مبنی تھی:
1) خوداعتمادی
سردار جی کو کچھ نہیں آتا تھا، مگر وہ ایسی بے دھڑک روانی سے بول رہے تھے کہ سامعین سمجھتے رہے کہ کوئی غیر معمولی فلسفیانہ گفتگو ہو رہی ہے۔
2) علمی ناموں کی “جگالی”
ہر چند جملوں کے بعد:
غالب انڈ گوئٹے
یہی لفظ جرمنوں کے لیے “ادبی وزن” کا ثبوت بن گیا۔
3) زبان کا جادو، معنی نہیں
جرمن سامعین پنجابی یا اردو نہیں سمجھتے تھے۔
لیکن سردار جی کی آواز، ہاتھوں کے اشارے، جوش اور بیان کا رنگ…
یہ سب انہیں “علمی” محسوس ہوا۔
مصنف کا طنزیہ نکتہ یہ ہے کہ
دنیا اکثر اظہار کے انداز سے متاثر ہوتی ہے، مواد سے نہیں۔
“ادب” اور “علم” کی نمائش اکثر کھوکھلی ہوتی ہے۔
اور سب سے اہم: چالاکی اور برجستگی کا فن، بے وقوف کو بھی استاد بنا دیتا ہے۔