The Challenge of Urdu Audiobooks: A Hindrance to Urdu Literature?

Urdu audiobooks face significant hurdles, with one of the most persistent objections being: “Have you obtained permission from the authors before converting their works into audio format?” This question often arises, leading to a broader discussion about the accessibility of literature in modern times.

A recent example highlights this issue. The renowned Urdu novel Jangloos by Shaukat Siddiqui was slated for republishing by Jehlum Book Corner last year. However, the legal framework stipulates that copyrights remain with the author or their heirs for fifty years after the first edition’s publication. Since Shaukat Siddiqui had passed away, his heirs’ consent was required. His son, residing in the USA, refused permission, expressing his intention to publish the novel himself. After a year of negotiations, Book Corner finally obtained the rights by paying a hefty amount.

Did this permission process cost them too much?

If authors and their heirs adopt a discouraging stance toward publishers and audiobook creators, how will literature thrive? The financial burden of acquiring rights inevitably affects book prices. Such attitudes stifle creativity and prevent Urdu literature from reaching broader audiences. Unfortunately, many Pakistani authors and their families prefer to block progress rather than contribute to it.

The Reluctance of Urdu Writers to Embrace Digitalization

I have personally approached several Urdu writers, requesting short works that could be recorded in a ten-minute audiobook format. While some, like Raziuddin Syed, Bashir Saddozai, and Mir Hussain Ali Imam, generously provided their content, others either ignored the request or insisted on handling the process themselves—something that rarely materialized. Surprisingly, when excerpts from their books were uploaded and shared on social media, many authors failed to acknowledge or engage with the posts.

Authors such as Dr. Abid Moiz and Shaz Jilani responded positively and even helped expand my audience. However, well-known figures like Ahmed Iqbal showed indifference when informed that their work had been transformed into an audiobook. Similarly, Tahir Javed Mughal and many others, despite being active on social media, remained unresponsive. This passive approach hinders Urdu literature from adapting to the evolving digital landscape.

Is Audiobook Production an Ethical Concern?

Consider this analogy: A person unable to read asks someone to read a book aloud to them in exchange for a fee. Would you call this an ethical violation or an infringement on the author’s rights? The only difference is that AwazeUrdu aims to provide this service online, just as digital services operate worldwide. The real issue arises when an audiobook platform distributes recordings without crediting the original author.

Most Urdu authors remain disconnected from social media, making it difficult to seek permission. During the Karachi Book Fair, I informed Ahmed Iqbal that his novel Shakhsiyat Ki Chori had been converted into an audiobook and shared online. His reaction? Complete indifference. This apathy underscores the need for authors to engage with evolving trends rather than resist them.

The Issue of Compensation and Market Realities

Another major challenge is financial expectations. When asked for permission to record their works, many authors immediately inquire about compensation—an understandable concern. However, the requested fees are often so high that they deter content creators from proceeding. In an emerging market, both content creators and authors need to adopt a practical, sustainable approach.

If authors wish to benefit from Urdu audiobooks, they should either:

Narrate their works and upload them online.

Partner with voiceover artists for a reasonable fee.

Investing in audiobook production is no different from the costs of publishing a book. Authors who embrace digital platforms and market their content online will gain loyal followings, just as they have with print publications.

The Future of Urdu Literature in the Digital Age

Within the next decade, most literature will be available in Urdu audiobook format. Just as PDF files cannot be stopped, audiobooks are an inevitable progression. Resisting this change will only hinder the growth of Urdu literature.

AwazeUrdu has consistently advocated for authors to take control of their digital presence. Those who fail to adapt will eventually find that others have done so in their place—leaving them with little ground for complaint.

مجھے اکثرجگہ سے یہ اعتراض سننےاورپڑھنےکوملتاہے کہ آپ جن کتابوں کو آڈیوفارمیٹ میں منتقل کرتے ہیں یا کرنےکا ارادہ رکھتے ہیں، کیا ان کےمصنفین سے آپ نےاجازت لی ہے؟

اس پرمجھےایک واقعہ یاد آتاہےجس کےراوی سرمدخان ہیں۔ وہ لکھتاہوں، پھرمضمون  آگےبڑھاؤں گا۔

جہلم بُک کارنر والوں نےگزشتہ سال شوکت صدیقی صاحب کامشہورِزمانہ ناول”جانگلوس” ازسرنو چھاپنےکا ارادہ کیا۔ چوں کہ قانون یہ ہے کہ کسی بھی تحریرکےحقوق، کتاب کی طبعِ اول کے پچاس برس بعد تک مصنف کےنام پرمحفوظ رہتے ہیں۔ اگر مصنف حیات نہ بھی ہو تو اس کےوارثین کی اجازت کےبغیر آپ یہ کتاب نہیں چھاپ سکتے۔ اس لئے بُک کارنروالوں نے شوکت صدیقی مرحوم کےورثاء سے رابطہ کیا۔ ان کا ایک بیٹا امریکہ میں ہے۔ ان صاحب نے یہ کہہ کراجازت دینےسےانکارکردیا کہ میں اس ناول کوبذاتِ خود چھاپناچاہتاہوں۔ ایک سال تک یہ قضیہ چلتارہا۔ آخر بُک کارنر والوں نےایک بڑی رقم کےعوض ان سے اجازت نامے پردستخط لئےاور ناول چھاپا۔

کیاآپ کےخیال میں انہیں اجازت لینا مہنگاپڑا؟

اگر مصنفین یا ان کےوارثین پبلشروں اور ہم جیسے  وائس اوور کرنےوالوں کےساتھ اس طرح کا حوصلہ شکن رویہ رکھیں گے تو اس سے ادب کی کیا خدمت ہوگی ؟۔ کیا بُک کارنر والوں نے ان صاحب کو جو رقم ادا کی، اس کا اثرکتاب کی قیمت پر نہیں پڑاہوگا۔ مجھے اس واقعے کوسن کر بےحد دُکھ ہوا۔ ہم پاکستانیوں کا یہ رویہ کیوں ہے کہ خود کوئی کام نہ کریں گے اور کام کرنےوالوں کو اعتراض کا نشانہ بناکر ان کو کام کرنےسے گویا روک دیں گے؟۔

خودمیں نے کئی مصنفین سے (جن سے میرا رابطہ ممکن ہوا) یہ عرض کیا کہ آپ اپنی کوئی  ایسی تخلیق ، جسے تقریباًدس منٹ میں پڑھاجاسکے، عنایت فرمائیں۔ اس کچھ احباب نےکہا کہ وہ خود  اس کام کو سرانجام دے رہے ہیں۔ یقین کریں، یہ جان کربےحد خوشی ہوئی اور میں نے اس کا اظہاربھی کیا۔ یہی تو آوازِاردوچاہتاہے کہ مصنفین خود ڈیجیٹل دنیامیں داخل ہوجائیں،اپنےدائرے سے باہرنکل کر کچھ بڑاسوچیں، پبلشروں کےمحتاج نہ رہیں، براہِ راست اپنےچاہنےوالوں تک پہنچیں۔ کچھ مصنفین نےمثلاًجناب رضی الدین سید، بشیرسدوزئی،میرحسن علی امام وغیرہ نےاپنی تخلیقات عنایت فرمائیں، جنہیں بعدازاں اپنےسوشل میڈیاپلیٹ فارم پرپیش کیا۔ ان حضرات نے اسے اپنےحلقہءِ احباب میں شیئربھی کیا، جس سے یقیناًمیرے فالوورزمیں بھی اضافہ ہوا۔ تیسری قسم وہ ہے،جنہیں میں نے ان کی کتابوں کےاقتباسات اپلوڈ کرنےکےبعد سوشل میڈیا پردریافت کیا اور انہیں اس ویڈیوکا لنک بھیجا۔ ان کی اکثریت نے جواب دینےکی بھی زحمت نہیں کی ۔ خصوصاً کالم نگاروں نے، حالاں کہ اگر وہ اپنی وال پر شیئر کرتے تو یقیناً طرفین کواس کا فائدہ ہوتا۔ ڈاکٹرعابدمُعزاورشازجیلانی وغیرہ نے نہایت حوصلہ افزا  ردِّعمل دیا، بلکہ شازجیلانی  کی وجہ سے میرے فیس بُک فالوورز میں اضافہ بھی ہوا۔

دراصل ابھی تک ہم اردووالے آڈیوکتاب کی اہمیت کوسمجھ ہی نہیں رہے۔ خصوصاً مصنفین ، جو سب سے زیادہ ناقدری کاشکار ہیں۔ میں اس بارے میں پہلے بھی بہت کچھ لکھ چکاہوں۔ اس مضمون میں مزید کچھ اہم گزارشات پیش کرتاہوں۔

آپ آوازِاردوکی مثال اس طرح لیں کہ ایک شخص، جو کسی بھی وجہ سے کتاب نہیں پڑھ سکتا، وہ کسی دوسرے فرد سے کہتاہے کہ مجھے یہ کتاب پڑھ کرسنادو اور اس کےعوض کچھ معاوضہ طے ہوجاتاہے تو کیاآپ اسے ادیب کےحق پر ڈاکہ ڈالنا کہیں گے یا ادبی سرقہ کا نام دیں گے؟۔فرق یہ ہے کہ آوازِاردو یہ کام آن لائن کرناچاہتاہے۔ جیساکہ دنیابھر میں اس وقت آن لائن سروسز دی جارہی ہیں۔ اعتراض توجب بنتا، جب آوازِاردویا کوئی بھی وائس اوور چینل اپنےنام سے  یابغیر حوالہ دیے یہ آڈیوز شیئر کر رہاہوتا۔

اردومصنفین کی اکثریت سوشل میڈیاپر دستیاب ہی نہیں، ان سے رابطہ انتہائی مشکل ہے تو اجازت کےمراحل کیسے طے ہوں۔ گزشتہ سال کراچی بُک فیئرمیں جناب احمداقبال سے ملاقات ہوئی، میں نے انہیں بتایاکہ ان کاناول”شخصیت کی چوری” میں نے آڈیومیں منتقل کرکےاپنے سوشل میڈیاپلیٹ فارمز پراپلوڈ کیاہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ انہوں نے اس کاکوئی ردعمل نہیں دیا، بلکہ فرمانےلگے کہ میں توسوشل میڈیا استعمال کرتاہی نہیں۔ طاہرجاوید مغل صاحب کا میں عرصے سے فین ہوں، ان کی کہانی “باغ سےباغ تک” آوازِاردوکی شروعات میں پیش کی تھی ۔ اب سائٹ پر اس بارے میں بلاگ بھی لکھ کر پوسٹ کیاہے، انہیں بھی لنک بھیجاتھا، مگر انہوں نے بھی جواب نہیں دیا۔ حالاں کہ وہ سوشل میڈیا پرباقاعدہ حاضربھی رہتے ہیں۔ جناب صغیرانصاری المعروف ش۔صغیر۔ادیب جاسوسی ناولوں کےمعروف مصنف ہیں۔ ان کا اندازِتحریرابنِ صفی مرحوم سے ملتاہے۔ ان کی تحریرکردہ ایک کہانی پر آج کل کام جاری ہے۔ گوگل پر ان کی تصویرتک موجود نہیں۔ بڑی مشکل سےان سےمتعلق ایک تحریر اور ایک دھندلی سی تصویرملی۔

ایک بڑا مسئلہ ہمارے یہاں حرص وطمع کاہے۔ الفاظ اگرچہ بہت سخت ہیں مگر مشاہدہ ہے کہ کسی سے اگر کہاجائے کہ آپ اپنی تحریر وائس اوور کرنےکی اجازت دیں یا مصنف کہے کہ میری تحریر وائس اوور کردو تو پہلاسوال معاوضے کےبارے میں کیاجاتاہے۔ ٹھیک ہے، یہ آپ کاحق ہے، مگر معاوضہ وہ طلب کریں جوسامنے والےکےلئے قابلِ برداشت ہو۔ یہ نہ ہو کہ آپ کےمعاوضہ بتانےپر وہ دلبرداشتہ ہوکر کام کرانےکا ارادہ  ہی ملتوی کردے۔ ہمارے یہاں یہ کام ابھی اوّلین مراحل میں ہے۔ مارکیٹ کا اصول ہےکہ اگرآپ اپنےکسٹمرکومطمئن کریں گے تواس سے آپ کومزید کام ملے گا۔ اسی طرح کام لینےوالےبھی دوسروں کےپیٹ کاخیال کریں اور ان کےلئے کم ازکم اتنا ضرور پسندکریں جتنا اپنےلئے مناسب سمجھتے ہیں۔

یاد رکھیں! آئندہ آنے والے دس سالوں میں تمام ادب آڈیوفارمیٹ میں منتقل ہوجائے گا اورآپ جس طرح پی۔ڈی۔ایف کونہیں  روک سکے، اسے بھی نہیں روک سکیں گے۔ تقدیرکےقاضی نے یہ فتویٰ دے دیاہے۔ مجھے یا کسی اور کو برابھلاکہنےسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وقت کی ضرورت کوسمجھیں۔ آوازِاردوکا شروع سے مؤقف یہی رہاہے کہ مصنفین کوبذاتِ خود یہ کام کرناچاہیے،جیساکہ اس کی مثالیں پچھلےمضامین میں دےچکا ہوں۔ اگر نہیں کرسکتے تو تحریر لکھ کر کسی وائس اوور آرٹسٹ کی بامعاوضہ خدمات حاصل کریں۔ آخر کتاب چھپوانےپربھی توآپ پیسے خرچ کرتے ہیں۔ بعد ازاں آپ اپنی چھوٹی سی سائٹ بناکر اس پر اپلوڈ کریں اورڈیجیٹل مارکیٹنگ کےذریعے اپنےفالوورز بڑھائیں۔

اگر آپ یہ نہیں کریں گے تو”کوئی اور “کرلےگا۔ پھر شکوہ نہ کیجئےگا۔

1 thought on “The Challenge of Urdu Audiobooks: A Hindrance to Urdu Literature?”

  1. آپ کی رائے سے صد فیصد متفق ہوں۔ کچھ نادان لوگ علامہ کے اس شعر کی تفسیر بنے پھرتے ہیں۔
    آہینِ نو سے ڈرنا طرزِ کہن پہ اڑنا
    منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں۔
    میں نے محترم ابنِ آس صاحب کو بھی کمنٹ کیا ہے ان کے طرزِ تخاطب پر پڑھ لیجئے گا۔
    شکریہ

    Reply

Leave a Comment